🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب الجنايات - ذكر البيان بأن تحريم الله جل وعلا أموال المسلمين ودماءهم وأعراضهم كان ذلك في حجة الوداع قبل أن يقبض الله جل وعلا رسوله صلى الله عليه وسلم إلى جنته بثلاثة أشهر ويومين-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر بیان کہ اللہ جل وعلا نے مسلمانوں کے اموال، خون اور عزتوں کو حرام کیا، یہ حجة الوداع میں ہوا جب اللہ جل وعلا نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تین ماہ اور دو دن بعد جنت میں بلایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5974
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، السُّنَّةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ: ثَلاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟" قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ:" أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ ذَا الْبَلْدَةَ؟" قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلا فَلا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ"، قَالَ: فَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ يَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَدْ كَانَ ذَاكَ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟ أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟" .
سیدنا ابوبکره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے زمانہ گردش میں ہے سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ان میں سے تین آگے پیچھے آتے ہیں ذیقعدہ، ذوالحجہ اور محرم، جبکہ رجب کا مہینہ جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے نیا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ البلدہ نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کون سا دن ہے ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری جانیں تمہارے مال (یہاں محمد نامی راوی کہتے ہیں: میرا یہ خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس شہر میں قابل احترام ہے عنقریب تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ گے، تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں حساب لے گا خبردار میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو، تم میں سے ہر موجود شخص غیر موجود شخص تک تبلیغ کر دے کیونکہ بعض اوقات یہ بات اس شخص تک پہنچ جاتی ہے جو اس کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر اسے محفوظ رکھتا ہے، جس نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی براہ راست) اسے سنا تھا۔
راوی بیان کرتے ہیں: محمد نامی راوی جب اس حدیث کا ذکر کرتے تھے تو یہ کہتے تھے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے اس طرح ہوتا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5974]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5943»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1702): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں