🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب الجنايات - ذكر الإخبار عن تحريم الله جل وعلا دماء المؤمنين-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے مومنوں کے خون کو حرام کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5972
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ: أَتَانِي أَبُو الْعَالِيَةِ وَصَاحِبٌ لِي، فَقَالَ: هَلُمَّا، فَإِنَّكُمَا أَشَبُّ شَبَابًا، وَأَوْعَى لِلْحَدِيثِ مِنِّي، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّيْثِيَّ، قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ حَدِّثْ هَذَيْنِ، قَالَ بِشْرٌ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ، فَشَذَّ مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ وَمَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرُهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، قَالَ: فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيهِ قَوْلا شَدِيدًا، فَبَلَغَ الْقَاتِلَ، قَالَ: فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ، وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ، فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ الثَّالِثَةَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَليَّ أَنْ أَقْتُلَ مُؤْمِنًا" ثَلاثَ مَرَّاتٍ .
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: ابوعالیہ اور میرے ایک ساتھی میرے پاس آئے ان لوگوں نے کہا: تم آؤ تم نوجوان ہو تمہیں مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد ہیں ہم لوگ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم بشر بن عاصم لیثی کے پاس آئے، تو ابوعالیہ نے کہا: ان دونوں کو حدیث بیان کرو بشر نے یہ بات بیان کی۔ سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی ہے: وہ ان کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی انہوں نے ایک قوم پر حملہ کیا ان میں سے ایک شخص ایک طرف ہٹ گیا مہم میں شامل افراد میں سے ایک شخص اس کے پاس گیا اس کے پاس سونتی ہوئی تلوار تھی اس (پہلے الگ ہونے والے شخص نے) کہا: میں مسلمان ہوں، لیکن (پیچھے جانے والے فرد نے) اس کی بات پر توجہ نہیں دی اور اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا اس بات کی اطلاع قتل کرنے والے شخص کو ملی۔ راوی بیان کرتے ہیں: ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو اس قاتل نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اللہ کی قسم! اس نے یہ کلمہ صرف قتل سے بچنے کے لیے پڑھا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اور اس کی طرف موجود لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے کو جاری رکھا اس شخص نے دوبارہ یہی بات بیان کی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اس نے صرف قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اور اس کی طرف موجود لوگوں سے منہ پھیر لیا پھر اس شخص سے صبر نہیں ہوا، یہاں تک کہ اس نے تیسری مرتبہ یہی بات کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے ناراضگی کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نمایاں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کروں یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5972]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5941»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - انظر التعليق. * [سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ] قال الشيخ: وعنه ابن أبي شيبة (12/ 378 - 379). * [بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّيْثِيَّ] قال الشيخ: لم يُوَثِّقْهُ غير المؤلِّف، ولم يرو عنه ذو ثقة غير حميد - هذا -، ولذا قال ابنُ القطان: «مجهول الحال». وأشار إلى ذلك الذهبي بقوله في «الكاشف»: «وُثِّق». وأمَّا قول الحافظ: «صدوق يخطئ»!؛ ففيه نظر. لكن وقع في «طبقات ابن سعد»، و «مستدرك الحاكم»: (نصر بن عاصم)، وهو أخو (بشر بن عاصم)، وهو ثقة. وصحَّحه الحاكم والذهبي، وهو كما قالا؛ إن كان قوله: (نصر) - بالنون - محفوظا. فقد رواه الطبراني في «الكبير» (17/ 356 / 981) من طريق يونس بن عبيد، عن حميد بن هلال .. بشر بن عاصم - بالباء -. وكذلك رواه أحمد (4/ 110) - والسند إليه صحيح -؛ فهو المحفوظ. لكن قوله في آخر الحديث: «إن الله ... »؛ له شاهد بنحوه، مخرج في «الصحيحة» برقم (689). والقصَّة لها شاهد في الصحيحين من حديث أُسامَة بن زيدٍ، وهو مُخَرَّجٌ في صحيح أبي داود برقم (2375). * [حَرَّمَ] قال الشيخ: كذا الأصل! وفي «مسند أبي يعلى»: أَبَى. وكذلك هو عند كلِّ مُخَرِّجِيهِ؛ كأحمد والنسائي في «السنن الكبرى» (5/ 175 - 176)، ولفظه - وهو أتمُّ - «إِنَّ اللهَ أَبى عَلَى الَّذِي قَتَلَ مُؤمِناً».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5973
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ أَوْ قَالَ: بِزِمَامِهِ، فَقَالَ: " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامَ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى يُبَلِّغُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ" .
سیدنا ابوبکره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر ٹھہرے ہوئے تھے ایک شخص نے اس اونٹ کی لگام (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) کو پکڑا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کون سا دن ہے۔ ہم لوگ خاموش رہے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کون سا مہینہ ہے ہم لوگ خاموش رہے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کون سا شہر ہے ہم لوگ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے۔ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری جانیں تمہارے مال تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابل احترام ہے خبردار ہر موجود شخص غیر موجود تک اس کی تبلیغ کر دے کیونکہ بعض اوقات موجود شخص ایسے شخص تک اس کی تبلیغ کرے گا، جو اس کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر اس حکم کو محفوظ رکھے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5973]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5942»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3837). تنبيه!! رقم (3837) = (3848) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں