صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب الجنايات-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان -
حدیث نمبر: 5971
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُهُ أَنْ يُسَارَّهُ، فَسَارَّهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلامِهِ وَقَالَ: " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ:" أَلَيْسَ يُصَلِّي؟" قَالَ: بَلَى، وَلا صَلاةَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُولَئِكَ الَّذِينَ نُهِيتُ عَنْهُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے اسی دوران ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی میں بات کرنا چاہتا ہے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی میں یہ بات چیت کی کہ وہ منافقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قتل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں دریافت کیا: کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اس شخص نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، لیکن اس کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے عرض کی: جی ہاں یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، لیکن اس کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ نماز نہیں پڑھتا اس نے عرض کی: جی ہاں (پڑھتا ہے) لیکن اس کی نماز کا کوئی اعتبار نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں (قتل کرنے سے) مجھے منع کیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5971]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5940»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (4481 / التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح