صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
22. باب القصاص - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم قتل قاتل المرأة التي وصفناها بإقراره على نفسه بقتله إياها لا بإقرارها عليه به-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے قاتل کو قتل کیا جس کا ہم نے ذکر کیا، اس کے اپنے اقرار پر کہ اس نے اسے قتل کیا، نہ کہ اس کے اقرار پر
حدیث نمبر: 5993
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ" أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقَالُوا لَهَا: مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ؟ فُلانٌ وَفُلانٌ؟ حَتَّى ذُكِرَ رَجُلٌ يَهُودِيٌّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَأَقَرَّ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک لڑکی ایسی حالت میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچلا گیا تھا لوگوں نے اس لڑکی سے دریافت کیا تمہارے ساتھ ایسا کس نے کیا: کیا کہا: فلاں نے؟ فلاں نے، یہاں تک کہ ایک یہودی شخص کا ذکر کیا گیا، تو اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کر کے کہا: (اس نے کیا ہے) اس یہودی کو پکڑ لیا گیا اس نے اقرار کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کا سر پتھر کے ذریعے کچل دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5993]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5961»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ماقبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين