صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
63. باب بدء الخلق - ذكر الزجر عن الاستقاء من آبار أرض ثمود-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر منع کہ انسان ثمود کی زمین کے کنوؤں سے پانی مانگے
حدیث نمبر: 6202
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجْرَ أَرْضَ ثَمُودَ، فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا، وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِينَ،" فَأَمَرَهُمْ أَنَ يُهْرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا، وَأَنْ يَعْلِفُوا الإِِبِلَ الْعَجِينَ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجر کے علاقے میں پڑاؤ کیا جو قوم ثمود کا علاقہ تھا، انہوں نے وہاں کے کنویں سے پانی لے لیا اور اس کے ذریعہ آٹا بھی گوندھ لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت لیا ہوا پانی بہا دیا گیا اور وہ آٹا اونٹوں کو کھلا دیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ ”وہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جہاں (سیدنا صالح علیہ السلام کی) اونٹنی پانی پینے کے لیے آتی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6202]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3378، 3379، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2981، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6202، 6203، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1134، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6092، والبزار فى (مسنده) برقم: 5734» «رقم طبعة با وزير 6169»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري