سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
213. باب كَفَّارَةِ مَنْ تَرَكَهَا
باب: جمعہ چھوڑنے والے کے کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ الْعُجَيْفِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ، وَخَالَفَهُ فِي الْإِسْنَادِ وَوَافَقَهُ فِي الْمَتْنِ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر اسے ایک دینار میسر نہ ہو تو نصف دینار کرے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن قیس نے اسی طرح روایت کیا ہے، اور سند میں ان کی مخالفت کی ہے اور متن میں موافقت۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1053]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی عذر کے بغیر جمعہ چھوڑ دیا ہو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر نہ پائے تو آدھا دینار۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”خالد بن قیس نے ایسے ہی روایت کیا ہے مگر سند میں اختلاف کیا ہے اور متن میں موافقت کی ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجمعة 3 (1373)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 93 (1128)، (تحفة الأشراف: 4631، 19231)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/8، 14) (ضعیف)» (قدامہ مجہول راوی ہیں، نیز سمرہ‘‘ رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع ثابت نہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (1373ب) ابن ماجه (1128)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
إسناده ضعيف
نسائي (1373ب) ابن ماجه (1128)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
حدیث نمبر: 1054
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِرْهَمٍ، أَوْ نِصْفِ دِرْهَمٍ، أَوْ صَاعِ حِنْطَةٍ، أَوْ نِصْفِ صَاعٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ هَكَذَا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مُدًّا أَوْ نِصْفَ مُدٍّ"، وَقَالَ: عَنْ سَمُرَةَ: قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اخْتِلَافِ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَمَّامٌ عِنْدِي أَحْفَظُ مِنْ أَيُّوبَ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ.
قدامہ بن وبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز «عن سمرة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1054]
قدامہ بن وبرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص سے بغیر کسی عذر کے ایک جمعہ رہ گیا ہو، تو وہ ایک درہم یا آدھا درہم یا ایک صاع یا آدھا صاع گندم صدقہ کرے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اس کو سعید بن بشیر نے قتادہ (راوی) سے ایسے ہی روایت کیا ہے، مگر اس نے ایک مد یا آدھا مد کہا ہے اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا، ان سے اس حدیث میں اختلاف کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، تو انہوں نے کہا: ”میرے نزدیک ایوب یعنی ابو العلاء کی نسبت ہمام احفظ ہے۔ (یعنی زیادہ یاد رکھنے والا ہے۔)““ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4631، 19231) (ضعیف) (قدامہ مجہول ہیں، نیز سند میں ان کے درمیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان دو آدمیوں کا انقطاع ہے)»
وضاحت: ۱؎: صاع ڈھائی کلو گرام کا، درھم: چاندی کا سکہ تین گرام کے سے کچھ کم (۹۷۵,۲)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1053)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1053)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49