صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
105. باب بدء الخلق - ذكر السبب الذي من أجله هلك من كان قبلنا من الأمم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر ہم سے پہلے کی امتیں ہلاک ہوئیں
حدیث نمبر: 6245
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، لا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِِلا أُحَدِّثُكُمْ بِهِ"، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيُّ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَبُوكَ حُذَافَةُ" ، فَرَجَعَ إِِلَى أُمِّهِ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ؟ إِِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَأَعْمَالٍ قَبِيحَةٍ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ لأَدَعَ حَتَّى أَعْرِفَ مَنْ كَانَ أَبِي مِنَ النَّاسِ، قَالَ: وَكَانَ فِيهِ دُعَابَةٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے بکثرت (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے، تو تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں دریافت کرو گے میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا۔“ سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا باپ حذافہ ہے۔“ وہ اپنی والدہ کے پاس واپس گئے۔ ان کی والدہ نے ان سے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ ہم لوگ زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھتے تھے اور برے کام کیا کرتے تھے (لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم اس طرح کے سوالات کرو) تو انہوں نے کہا: میں نے اس بارے میں ضرور معلوم کرنا تھا تاکہ مجھے پتہ چل جائے میرا باپ کون ہے۔ راوی کہتے ہیں: ان کے مزاج میں مذاق کا عنصر پایا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6245]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7288، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1337، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2508، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 18، 19، 20، 21، 2105، 2106، 3704، 3705، 6245، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2618، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3585، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2679، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1، 2، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1046، 1855، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2705، 2706، 2707، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7484، 7617، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1159» «رقم طبعة با وزير 6212»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى نحوه من حديث أنس (106).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن