صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
517. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فتح المسلمين بيت المقدس بعده-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ان کے بعد مسلمانوں کی بیت المقدس کی فتح ہوگی
حدیث نمبر: 6675
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي إِِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي خِبَاءٍ مِنْ أَدَمٍ، فَجَلَسْتُ فِي فَنَاءِ الْخِبَاءِ، فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ، فَقَالَ: ادْخُلْ يَا عَوْفُ، فَقُلْتُ: كُلِّي؟ فَقَالَ: كُلُّكَ، فَدَخَلْتُ فَوَافَقْتُهُ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَوْفُ، " احْفَظْ خِلالا سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: إِِحْدَاهُنَّ مَوْتِي، قَالَ عَوْفٌ: فَوَجَمْتُ عِنْدَهَا وَجْمَةً شَدِيدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ: إِِحْدَى، فَقُلْتُ: إِِحْدَى، ثُمَّ قَالَ: فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ يَظْهَرُ فِيكُمْ دَاءٌ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ فِيكُمْ، حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِنْكُمْ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا، ثُمَّ فِتْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ حَتَّى لا يَبْقَى بَيْتٌ مُؤْمِنٌ إِِلا دَخَلَتْهُ، ثُمَّ صُلْحٌ يَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الأَصْفَرِ، فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ، فَيَسِيرُونَ إِِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةٍ تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ چمڑے کے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھے۔ میں اس کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اے عوف! اندر آ جاؤ۔“ میں نے عرض کی: سارے کا سارا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سارے کا سارا۔“ میں اندر داخل ہوا تو میں نے آپ کو ٹھہر ٹھہر کر وضو کرتے ہوئے پایا، پھر آپ نے فرمایا: ”اے عوف! چھ چیزوں کے بارے میں یاد رکھنا کہ جو قیامت سے پہلے ہوں گی۔ ان میں سے ایک میری موت ہے۔“ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ سن کر مجھے جھٹکا سا لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو: ایک۔“ میں نے کہا: ایک۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المقدس فتح ہو گا، پھر تمہارے درمیان ایک بیماری پھوٹ پڑے گی، پھر تمہارے درمیان مال زیادہ ہو جائے گا، یہاں تک کہ تم میں سے کسی ایک شخص کو ایک سو درہم دیے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا، پھر تمہارے درمیان ایسا فتنہ نمودار ہو گا کہ کسی بھی مومن کا گھر باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ فتنہ اس میں داخل ہو جائے گا، پھر تمہارے اور بنو اصفر (یعنی اہل روم) کے درمیان صلح ہو گی تو وہ تمہارے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے، پھر وہ 80 جھنڈوں کے نیچے اکٹھے ہو کر تمہاری طرف (جنگ کرنے کے لیے) چل پڑیں گے، جن کے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6675]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3176، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6675، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6382، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5000، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4042، 4095، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18884، 21232، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24604» «رقم طبعة با وزير 6640»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «فضائل الشام» (30): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح