🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

560. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم حتى يقبض العلم أراد به ذهاب من يحسن علمه صلى الله عليه وسلم لا أن علمه يرفع قبل قيام الساعة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "حتیٰ کہ علم اٹھایا جائے" سے مراد اس علم کے ماہرین کا جانا ہے جو صلی اللہ علیہ وسلم کا علم جانتے ہیں، نہ کہ قیامت سے پہلے ان کا علم اٹھایا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6719
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ اللَّهَ لا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ بِعِلْمِهِمْ، حَتَّى إِِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالا، فَسُئِلُوا، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ علم کو یوں قبض نہیں فرمائے گا کہ اسے لوگوں سے اٹھا لے گا، بلکہ وہ علما کو ان کے علم سمیت قبض کر لے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا لیں گے، ان سے مسائل دریافت کیے جائیں گے تو وہ علم نہ ہونے کے باوجود جواب دیں گے، وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6719]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 100، 7307، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2673، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4571، 6719، 6723، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5876، 5877، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2652، والدارمي فى (مسنده) برقم: 245، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 52، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20411، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6622» «رقم طبعة با وزير 6684»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - مضى (4552). تنبيه!! رقم (4552) = (4571) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں