صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
640. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر أبي مسعود الذي ذكرناه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ابو مسعود کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6800
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلَغَنِي أَنَّ" مَعَ الدَّجَّالِ جِبَالُ الْخُبْزِ، وَأَنْهَارُ الْمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ"، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَكُنْتُ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ سُؤَالا عَنْهُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ بِالَّذِي يَضُرُّكَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِِنْكَارُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُغِيرَةِ بِأَنَّ مَعَ الدَّجَّالِ أَنْهَارُ الْمَاءِ لَيْسَ يُضَادُّ خَبَرَ أَبِي مَسْعُودٍ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، لأَنَّهُ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ مَعَهُ نَهْرُ الْمَاءِ يَجْرِي، وَالَّذِي مَعَهُ يُرَى أَنَّهُ مَاءٌ وَلا مَاءَ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا تَضَادٌّ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ دجال کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں ہوں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انتہائی بے حیثیت ہو گا۔“ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں دجال کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ سوالات کیا کرتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ پر انکار کرنا کہ دجال کے ساتھ پانی کی نہریں ہوں گی، یہ روایت سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کے متضاد نہیں ہے جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، کیونکہ وہ ایسا ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حقیر ہو گا کہ اس کے ساتھ بہتے ہوئے پانی کی نہر ہو گی اور جو شخص یہ دیکھے گا کہ وہ پانی ہے وہ پانی نہیں ہو گا، اس طرح ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6800]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7122، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6782، 6800، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4073، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18442، والحميدي فى (مسنده) برقم: 782، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 27086» «رقم طبعة با وزير 6762»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - مضى (6744). تنبيه!! رقم (6744) = (6782) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين