صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
641. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن البعض الآخر من الفتن التي تكون مع الدجال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دجال کے ساتھ ہونے والے دوسرے بعض فتنوں کی
حدیث نمبر: 6801
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ، فَقَالَ فِيمَا حَدَّثَنَا: " يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ أَنْقَابَ الْمَدِينَةِ، فَيَخْرُجُ إِِلَيْهِ رَجُلٌ، وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ أَوْ مِنْ خَيْرِهِمْ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتُمْ إِِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ، أَتَشُكُّونَ فِي الأَمْرِ؟ فَيَقُولُونَ: لا، فَيُسَلَّطُ عَلَيْهِ، فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يُحْيِيهِ، فَيَقُولُ حِينَ يَحْيَى: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ بِأَشَدَّ بَصِيرَةً فِيكَ مِنِّي الآنَ، فَيُرِيدُ قَتْلَهُ الثَّانِيَةَ، فَلا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ" ، قَالَ مُعْمَرٌ: أَنَّ أَهْلَ الرَّجُلِ الَّذِي يَقْتُلُهُ الدَّجَّالُ ثُمَّ يُحْيِيهِ: الْخَضِرُ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دجال کے بارے میں بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے بارے میں جو بتایا اس میں یہ تھا: ”دجال آئے گا، اس کے لیے یہ بات ممنوع ہو گی کہ وہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں داخل ہو سکے، ایک شخص نکل کر اس کے پاس جائے گا، یہ اس دن سب سے بہتر شخص ہو گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان لوگوں کے بہترین لوگوں میں سے ایک ہو گا، وہ یہ کہے گا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم وہی دجال ہو جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا، تو دجال کہے گا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے اگر میں اسے قتل کر کے پھر زندہ کر دوں، تو کیا تمہیں اس معاملے کے بارے میں کوئی شک ہو گا؟ وہ لوگ جواب دیں گے: جی نہیں، تو دجال کو اس شخص پر تسلط عطا کیا جائے گا، وہ اسے قتل کر دے گا، پھر وہ اسے زندہ کرے گا، جب وہ زندہ ہو گا تو یہ کہے گا: اللہ کی قسم! تمہارے بارے میں جتنی بصیرت مجھے اب حاصل ہے پہلے حاصل نہیں تھی، پھر دجال دوبارہ اس شخص کو قتل کرنے کا ارادہ کرے گا لیکن اس پر قابو نہیں پا سکے گا۔“ معمر نامی راوی کہتے ہیں: لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ شخص جسے دجال قتل کرے گا اور پھر دوبارہ زندہ کرے گا وہ سیدنا خضر علیہ السلام ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6801]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1882، 7132، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2938، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6801، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4261، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11493، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 20824» «رقم طبعة با وزير 6763»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «قصة المسيح» (ص 36 - 38): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح