سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ
باب: دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1216
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ جَارُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ،عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: بَيْنَهُمَا عَشَرَةُ أَمْيَالٍ، يَعْنِي بَيْنَ مَكَّةَ، وَسَرِفٍ.
ہشام بن سعد کہتے ہیں کہ دونوں یعنی مکہ اور سرف کے درمیان دس میل کا فاصلہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1216]
ہشام بن سعد بیان کرتے ہیں کہ: ”مکہ اور وادی سرف کے درمیان دس میل کا فاصلہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19509) (مقطوع)»
قال الشيخ الألباني: مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1217
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، قَالَ: قَالَ رَبِيعَةُ، يَعْنِي كَتَبَ إِلَيْهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: وَأَنَا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَسِرْنَا، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قَدْ أَمْسَى، قُلْنَا: الصَّلَاةُ، غَابَتِ الشَّمْسُ" فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ، وَتَصَوَّبَتِ النُّجُومُ، ثُمَّ إِنَّهُ نَزَلَ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ صَلَّى صَلَاتِي هَذِهِ" يَقُولُ: يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا بَعْدَ لَيْلٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سَالِمٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا مِنْ ابْنِ عُمَرَ كَانَ بَعْدَ غُيُوبِ الشَّفَقِ.
عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا، اس وقت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، پھر ہم چلے، جب دیکھا کہ رات آ گئی ہے تو ہم نے کہا: نماز (ادا کر لیں) لیکن آپ چلتے رہے یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی اور تارے پوری طرح جگمگا نے لگے، پھر آپ اترے، اور دونوں نمازیں (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا کیں، پھر کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلتے رہنا ہوتا تو میری اس نماز کی طرح آپ بھی نماز ادا کرتے یعنی دونوں کو رات ہو جانے پر ایک ساتھ پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے اور انہوں نے سالم سے روایت کی ہے، اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذویب سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نمازوں کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے شفق غائب ہونے کے بعد جمع کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1217]
جناب عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سورج غروب ہو گیا جبکہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا۔ ہم چلتے رہے، جب ہم نے دیکھا کہ خوب شام ہو گئی ہے تو ہم نے عرض کیا: ”نماز؟“ مگر وہ چلتے رہے، حتیٰ کہ شفق غائب ہو گئی اور ستارے نکل آئے تو وہ اترے اور دونوں نمازیں اکٹھی کر کے پڑھیں۔ پھر کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو نمازیں میری اسی نماز کی طرح پڑھتے تھے۔ یعنی اندھیرا چھا جانے کے بعد دونوں کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کو عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے، انہوں نے سالم سے روایت کیا ہے، اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذوئیب سے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ان نمازوں کو جمع کرنا غروب شفق کے بعد تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7149) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (816)
أخرجه البيھقي (3/ 160، 161 وسنده حسن، عبدالله بن جعفر بن درستويه: حسن الحديث علي الراجح)
مشكوة المصابيح (816)
أخرجه البيھقي (3/ 160، 161 وسنده حسن، عبدالله بن جعفر بن درستويه: حسن الحديث علي الراجح)
حدیث نمبر: 1218
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ مَوْهَبٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَكِبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ مُفَضَّلٌ قَاضِيَ مِصْرَ، وَكَانَ مُجَابَ الدَّعْوَةِ، وَهُوَ ابْنُ فَضَالَةَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کر دیتے پھر قیام فرماتے اور دونوں کو جمع کرتے، اور اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مفضل مصر کے قاضی اور مستجاب لدعوات تھے، وہ فضالہ کے لڑکے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1218]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کر لیتے۔ پھر اترتے اور ان دونوں کو جمع کر کے پڑھتے۔ اور اگر سفر شروع کرنے سے پہلے ہی سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھتے اور سوار ہو جاتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ”مفضل (مذکورہ حدیث کے ایک راوی) مصر کے قاضی تھے۔ مجاب الدعوۃ تھے اور وہ فضالہ کے صاحبزادے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ تقصیر الصلاة 15 (1111)، 16 (1112)، صحیح مسلم/المسافرین 5 (704)، سنن النسائی/المواقیت 41 (587)،(تحفة الأشراف: 1515)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/247، 265) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1112) صحيح مسلم (704)
حدیث نمبر: 1219
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُقَيْلٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ:" وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ".
اس طریق سے بھی عقیل سے یہی روایت اسی سند سے منقول ہے البتہ اس میں اضافہ ہے کہ مغرب کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہو جاتی تو اسے اور عشاء کو ملا کر پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1219]
جناب عقیل رحمہ اللہ نے اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ”اور مغرب کو مؤخر کر لیتے اور عشاء کے ساتھ جمع کر کے پڑھتے، جبکہ شفق غروب ہو چکی ہوتی۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 1515) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1112) صحيح مسلم (704)
حدیث نمبر: 1220
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ فَيُصَلِّيَهُمَا جَمِيعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبَ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا قُتَيْبَةُ وَحْدَهُ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ اسے عصر سے ملا دیتے، اور دونوں کو ایک ساتھ ادا کرتے، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے، اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر ادا کرتے، اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء میں جلدی فرماتے اور اسے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث سوائے قتیبہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1220]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کرتے، حتیٰ کہ عصر کے ساتھ جمع کر کے پڑھتے۔ اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے، تو ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھتے، پھر سفر شروع کرتے۔ اور جب مغرب سے پہلے روانہ ہوتے تو مغرب کو مؤخر کرتے، حتیٰ کہ عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ اور جب مغرب کے بعد کوچ کرتے، تو عشاء کو جلدی کر کے مغرب کے ساتھ پڑھ لیتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس حدیث کو صرف قتیبہ نے روایت کیا ہے۔ (یعنی لیث سے روایت کرنے میں منفرد ہیں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 277 (553)، (تحفة الأشراف: 11321)، وقد أخرجہ: حم(5/241) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس سند اور متن میں قتیبہ منفرد ہیں، دونوں سندوں اور متنوں میں فرق کے لئے دیکھئے حدیث نمبر: (۱۲۰۶)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1344)
أخرجه الترمذي (553 وسنده صحيح) قتيبة بن سعيد ثقة حافظ ولا يضر تفرده
مشكوة المصابيح (1344)
أخرجه الترمذي (553 وسنده صحيح) قتيبة بن سعيد ثقة حافظ ولا يضر تفرده