صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
22. ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن المصطفى صلى الله عليه وسلم بعد أمره بالصلاة أبا بكر في علته أمر عليا بذلك رضي الله عنهما-
- ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں ابو بکر کو نماز کا حکم دینے کے بعد علی رضی اللہ عنہما کو یہ حکم دیا
حدیث نمبر: 6875
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الاثْنَيْنِ، " كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُتْرَةَ الْحُجْرَةِ، فَرَأَى أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ وَهُوَ يَتَبَسَّمُ، فَكِدْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ فِي صَلاتِنَا فَرَحًا بِرُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَنْكُصَ حِينَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمَا أَنْتَ، ثُمَّ أَرْخَى السِّتْرَ، وَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ" ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنَّهُ أُرْسِلَ إِِلَيْهِ كَمَا أُرْسِلَ إِِلَى مُوسَى، فَمَكَثَ فِي قَوْمِهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَاللَّهِ إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ رِجَالٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَأَلْسِنَتَهُمْ، يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ خُطْبَةَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الآخِرَةَ حِينَ جَلَسَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَشَهَّدَ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ صَامِتٌ لا يَتَكَلَّمُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِِنِّي قُلْتُ أَمْسَ مَقَالَةً وَإِِنَّهَا لَمْ تَكُنْ كَمَا قُلْتُ، وَإِِنِّي وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ الْمَقَالَةَ الَّتِي قُلْتُ فِي كِتَابٍ أَنْزَلَهُ اللَّهُ وَلا فِي عَهْدٍ عَهِدَهِ إِِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَدْبُرَنَا يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَكُونَ آخِرَهُمْ، فَإِِنْ يَكُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، فَإِِنَّ اللَّهَ جَعَلَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ نُورًا تَهْتَدُونَ بِهِ، فَاعْتَصِمُوا بِهِ تَهْتَدُوا لِمَا هَدَى اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ" إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَثَانِي اثْنَيْنِ، وَإِِنَّهُ أَوْلَى النَّاسِ بِأُمُورِكُمْ، فَقُومُوا فَبَايِعُوهُ"، وَكَانَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ قَدْ بَايَعُوهُ قَبْلَ ذَلِكَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، وَكَانَتْ بَيْعَةُ الْعَامَّةِ عَلَى الْمِنْبَرِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب پیر کا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جو لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ قرآن کے صفحے کی طرح تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے قریب تھا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی خوشی میں اپنی نمازوں کے بارے میں آزمائش کا شکار ہو جائیں (یعنی نمازیں توڑ دیں) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ارادہ کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں تو وہ پیچھے ہٹ جائیں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ تم اسی طرح رہو جیسے ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول کا انتقال نہیں ہوا بلکہ انہیں اسی طرح بلوایا گیا ہے جس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بلوایا گیا تھا تو وہ چالیس دن تک اپنی قوم سے دور رہے تھے اللہ کی قسم! مجھے یہ امید ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم منافقین کے کچھ افراد کے ہاتھ نہیں کاٹ دیتے اور ان کی زبانیں نہیں کاٹ دیتے، وہ منافقین جو یہ سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے۔
زہری بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دوسرے خطبے میں انہیں سنا جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر بیٹھے، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے اگلے دن کی بات ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش تھے انہوں نے کوئی بات نہیں کی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: امابعد! میں نے کل ایک بات کہی تھی ویسا نہیں ہے، جس طرح میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے جو بات کہی تھی میں نے وہ بات اللہ کی کتاب میں نہیں پائی کہ جسے اللہ نے نازل کیا ہو اور نہ ہی اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی تلقین کی لیکن مجھے یہ امید تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے عرصے تک زندہ رہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہم سب کے بعد ہو گا (راوی کہتے ہیں:) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان میں سے سب سے آخر میں ہو گا۔
(سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اگرچہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان ایک نور رکھا ہے، جس کے ذریعے تم ہدایت حاصل کر سکتے ہو تم اسے مضبوطی سے تھام کر رکھو تم ہدایت پا لو گے یہ وہ چیز ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت عطا کی تھی، پھر بے شک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں وہ دو افراد میں سے دوسرے شخص ہیں (جو ہجرت کے وقت غار میں موجود تھے) اور وہ تمہارے امور (یعنی خلیفہ ہونے) کے بارے میں سب لوگوں سے زیادہ حقدار ہیں، تو تم لوگ اٹھو اور ان کی بیعت کر لو۔
(راوی کہتے ہیں:) ان لوگوں میں سے کچھ لوگ اس سے پہلے بنو ساعدہ کے سقیفہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر چکے تھے لیکن ان کی عام بیعت منبر پر ہوئی۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 6875]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول کا انتقال نہیں ہوا بلکہ انہیں اسی طرح بلوایا گیا ہے جس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بلوایا گیا تھا تو وہ چالیس دن تک اپنی قوم سے دور رہے تھے اللہ کی قسم! مجھے یہ امید ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم منافقین کے کچھ افراد کے ہاتھ نہیں کاٹ دیتے اور ان کی زبانیں نہیں کاٹ دیتے، وہ منافقین جو یہ سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے۔
زہری بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دوسرے خطبے میں انہیں سنا جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر بیٹھے، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے اگلے دن کی بات ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش تھے انہوں نے کوئی بات نہیں کی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: امابعد! میں نے کل ایک بات کہی تھی ویسا نہیں ہے، جس طرح میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے جو بات کہی تھی میں نے وہ بات اللہ کی کتاب میں نہیں پائی کہ جسے اللہ نے نازل کیا ہو اور نہ ہی اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی تلقین کی لیکن مجھے یہ امید تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے عرصے تک زندہ رہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہم سب کے بعد ہو گا (راوی کہتے ہیں:) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان میں سے سب سے آخر میں ہو گا۔
(سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اگرچہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان ایک نور رکھا ہے، جس کے ذریعے تم ہدایت حاصل کر سکتے ہو تم اسے مضبوطی سے تھام کر رکھو تم ہدایت پا لو گے یہ وہ چیز ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت عطا کی تھی، پھر بے شک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں وہ دو افراد میں سے دوسرے شخص ہیں (جو ہجرت کے وقت غار میں موجود تھے) اور وہ تمہارے امور (یعنی خلیفہ ہونے) کے بارے میں سب لوگوں سے زیادہ حقدار ہیں، تو تم لوگ اٹھو اور ان کی بیعت کر لو۔
(راوی کہتے ہیں:) ان لوگوں میں سے کچھ لوگ اس سے پہلے بنو ساعدہ کے سقیفہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر چکے تھے لیکن ان کی عام بیعت منبر پر ہوئی۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 6875]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6836»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ] قال الشيخ: هو محمد بن المتوكل بن عبد الرحمن العسقلاني، يُعرَف بابن أبي السِّريِّ، وهو ثقهٌ حافظٌ، لكنَّه سيِّءُ الحفظ. لكنَّه قد تُوبِعَ، فالحديث في «مصنف عبد الرزاق» (5/ 433 - 438/ 9756) عن معمر ... به، وهو من رواية الدبري عنه، فأحدهما يقوي الآخر. وقد أخرجه أحمد (3/ 196) عن عبد الرزاق إلى قوله: ويزعم أَنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قد مات. وكذلك مسلم (2/ 24) من طريقين آخرين عن عبد الرزاق، ولكنَّه لم يَسُقْ لفظَه. وطرفُهُ الأوَّل في «الصحيحين»، وهو مُخَرَّج في «مختصر الشمائل» (194/ 322).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
حدیث نمبر: 6876
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ إِِلَى الْمَدِينَةِ، فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِِلا اثْنَا عَشَرَ رَجُلا، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَنَزَلَتِ الآيَةُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اسی دوران ایک قافلہ (یعنی ساز و سامان کا قافلہ) مدینہ منورہ آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تیزی سے اس کی طرف گئے یہاں تک کہ وہاں صرف بارہ افراد رہ گئے جن میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (یعنی جو سورۃ جمعہ کی آخری آیات ہیں) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 6876]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6837»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3147): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين