🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. باب قِيَامِ اللَّيْلِ
باب: تہجد (قیام اللیل) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1306
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ، عُقَدٍ يَضْرِبُ مَكَانَ كُلِّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی لمبی رات پڑی ہے، سو جاؤ، اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بد دلی کے ساتھ صبح کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1306]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سوتا ہے تو شیطان اس کی گدی کے پاس تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ دم کرتا ہے: رات لمبی ہے سویا رہ اگر وہ جاگ جائے، اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، اگر وہ وضو کر لے تو دوسری کھل جاتی ہے اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری بھی کھل جاتی ہے اور وہ ہشاش بشاش، خوش خوش صبح کرتا ہے، ورنہ بری حالت اور کسل مندی کی کیفیت میں صبح کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 12 (1142)، وبدء الخلق 11 (3269)، (تحفة الأشراف: 13820)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 28 (776)، سنن النسائی/قیام اللیل 5 (1608)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 174 (1329)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 25 (95)، مسند احمد (2/243، 253، 259) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1142) صحيح مسلم (776)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ، يَقُولُ:قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ لَا يَدَعُهُ، وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تہجد (قیام اللیل) نہ چھوڑو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں چھوڑتے تھے، جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1307]
سیدنا عبداللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رات کا قیام مت چھوڑو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہ چھوڑتے تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے یا کسل مندی کی کیفیت ہوتی تو بیٹھ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16281)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/126، 249) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1308
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1308]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا» اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا اور اپنی بیوی کو جگاتا ہے، اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے، اور «رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً» اللہ تعالیٰ اس بندی پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتی اور اپنے شوہر کو جگاتی ہے، اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/قیام اللیل 5 (1611)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 175 (1336)، (تحفة الأشراف: 12860)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/250، 436) (حسن صحیح) ویأتی ہذا الحدیث برقم (1450)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ پانی چھڑکنے سے وہ جاگ جائے گا اور نماز ادا کرے گا تو وہ بھی ثواب کی مستحق ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1230)
أخرجه النسائي (1611 وسنده حسن) ابن عجلان صرح بالسماع عند النسائي (1611) والحديث الآتي (1450)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1309
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ الْمَعْنَى، عَنْ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيَا أَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا كُتِبَا فِي الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ" وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ كَثِيرٍ، وَلَا ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ، جَعَلَهُ كَلَامَ أَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: وَأُرَاهُ ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ سُفْيَانَ مَوْقُوفٌ.
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں۔ ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور نہ اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا کلام قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1309]
سیدنا ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شوہر اپنی اہلیہ کو رات کے وقت جگاتا ہے اور وہ دونوں نماز پڑھتے یا دو رکعتیں پڑھتے ہیں تو ان کا اندراج ذاکرین و ذاکرات ﴿الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ﴾ [سورة الأحزاب: 35] میں ہو جاتا ہے۔ ابن کثیر نے اس کو مرفوع ذکر نہیں کیا اور نہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام ہی لیا بلکہ اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا کلام بتایا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا اور کہا: میرا خیال ہے کہ اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 175 (1335) ویأتی ہذا الحدیث برقم (1551)، (تحفة الأشراف: 3965)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری / التفسیر (11406) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1335)،يأتي (1451)
الأعمش مدلس وعنعن وللحديث طرق ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں