🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. صَقْلُ الْقَلْبِ بِالتَّوْبَةِ
توبہ کے ذریعے دل کو صاف کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6
أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل العَنبَري، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن ابن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا أذنبَ العبدُ نُكِتَ في قلبه نُكْتةٌ سوداءُ، فإن تاب صُقِلَ منها، فإن عاد زادت حتى تَعظُمَ في قلبه، فذاكَ الرَّانُ الذي ذَكَره الله ﷿ ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾  [المطففين: 14]  " (1) .
هذا حديث (2) لم يخرج في"الصحيحين"، وقد احتجَّ مسلم بأحاديثَ للقعقاع بن حَكيم عن أبي صالح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6 - سكت عنه الذهبي في التلخيص في هذا الموضع
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو وہ نکتہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل پر غالب آ جاتا ہے، پس یہی وہ «ران» (زنگ) ہے جس کا ذکر اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾ ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر (ان کے برے اعمال کا) زنگ چڑھ گیا ہے۔ [سورة المطففين: 14]
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، حالانکہ امام مسلم نے قعقاع بن حکیم عن ابی صالح کی احادیث سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7
حدثنا الإمام أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عروة، عن عائشة قالت: لم يَزَلْ رسولُ الله ﷺ يُسأَل عن الساعة حتى نزلت: ﴿فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا (43) إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا﴾  [النازعات: 43، 44]   (3) .
هذا حديث لم يخرَّج في"الصحيحين"، وهو محفوظ صحيح على شرطهما معًا، وقد احتجَّا معًا بأحاديث ابن عُيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (لوگوں کی جانب سے) قیامت کے بارے میں مسلسل سوال کیا جاتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا (43) إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا﴾ آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ؟ اس کا علم تو آپ کے رب ہی پر ختم ہے۔ [النازعات: 43، 44]
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، حالانکہ یہ ان دونوں (امام بخاری و مسلم) کی شرط پر محفوظ اور صحیح ہے، اور ان دونوں نے «سفيان بن عيينه عن الزهري عن عروه عن عائشه» کی احادیث سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 7]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8
حدثنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن الأغرِّ، عن أبي هريرة وأبي سعيد: أنهما شَهِدَا على رسول الله ﷺ قال:"إذا قال العبدُ: لا إله إلّا الله واللهُ أكبَرُ، صَدَّقه ربُّه، قال: صَدَقَ عبدي، لا إله إلّا أنا وأنا وحدي، وإذا قال: وحدَه (1) لا شريكَ له، صدَّقه ربُّه قال: صَدَقَ عبدي، لا إله إلّا أنا ولا شريكَ لي، وإذا قال: لا إله إلّا الله له المُلْك وله الحمدُ، قال: صَدَقَ عبدي، لا إله إلّا أنا ليَ الملكُ وليَ الحمدُ، وإذا قال: لا إله إلّا الله ولا حولَ ولا قوةَ إلّا بالله، قال: صَدَقَ عبدي، لا حولَ ولا قوةَ إلّا بي" (2) .
هذا حديث (3) لم يخرَّج في"الصحيحين"، وقد احتجَّا جميعًا بحديث أبي إسحاق عن الأغرِّ عن أبي هريرة وأبي سعيد (4) ، وقد اتفقا جميعًا على الحُجَّة بأحاديث إسرائيل بن يونس عن أبي إسحاق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8 - أوقفه شعبة وغيره
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ کہتا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، تو اس کا رب اس کی تصدیق فرماتا ہے اور کہتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اکیلا ہوں، اور جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، تو اس کا رب اس کی تصدیق فرماتا ہے اور کہتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میرا کوئی شریک نہیں، اور جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریف ہے، تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہی بھی میری ہے اور تعریف بھی میری ہے، اور جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور (گناہوں سے) پھرنے کی ہمت اور (نیکی کی) طاقت اللہ ہی کی توفیق سے ہے، تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، (بدی سے بچنے کی) ہمت اور (نیکی کی) قوت میرے ہی ذریعے ہے۔
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، حالانکہ ان دونوں نے ابواسحاق عن الاغر عن ابی ہریرہ و ابی سعید کی حدیث سے احتجاج کیا ہے، اور ان دونوں کا اسرائیل بن یونس عن ابی اسحاق کی احادیث سے حجت پکڑنے پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 8]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں