المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. صقل القلب بالتوبة
توبہ کے ذریعے دل کو صاف کرنا
حدیث نمبر: 6
أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل العَنبَري، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن ابن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا أذنبَ العبدُ نُكِتَ في قلبه نُكْتةٌ سوداءُ، فإن تاب صُقِلَ منها، فإن عاد زادت حتى تَعظُمَ في قلبه، فذاكَ الرَّانُ الذي ذَكَره الله ﷿ ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾ [المطففين: 14] " (1) .
هذا حديث (2) لم يخرج في"الصحيحين"، وقد احتجَّ مسلم بأحاديثَ للقعقاع بن حَكيم عن أبي صالح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6 - سكت عنه الذهبي في التلخيص في هذا الموضع
هذا حديث (2) لم يخرج في"الصحيحين"، وقد احتجَّ مسلم بأحاديثَ للقعقاع بن حَكيم عن أبي صالح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6 - سكت عنه الذهبي في التلخيص في هذا الموضع
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو وہ نکتہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل پر غالب آ جاتا ہے، پس یہی وہ «ران» (زنگ) ہے جس کا ذکر اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾ ”ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر (ان کے برے اعمال کا) زنگ چڑھ گیا ہے۔“ [سورة المطففين: 14] “
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج ”صحیحین“ میں نہیں کی گئی، حالانکہ امام مسلم نے قعقاع بن حکیم عن ابی صالح کی احادیث سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 6]
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج ”صحیحین“ میں نہیں کی گئی، حالانکہ امام مسلم نے قعقاع بن حکیم عن ابی صالح کی احادیث سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 6]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل أبي خالد الأحمر - وهو سليمان بن حيان - ومحمد بن عجلان. أبو كريب: هو محمد بن العلاء، وأبو صالح: هو ذَكْوان السَّمّان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ قوت ابو خالد الاحمر (جو کہ سلیمان بن حیان ہیں) اور محمد بن عجلان کی وجہ سے ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہاں ابو کریب سے مراد "محمد بن العلاء" ہیں، اور ابو صالح سے مراد "ذکوان السمان" ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (4244)، والترمذي (3334)، والنسائي (10179) و (11594)، وابن حبان (930) من طرق عن محمد بن عجلان، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کی تخریج ابن ماجہ (4244)، ترمذی (3334)، نسائی (10179) اور (11594)، اور ابن حبان (930) نے محمد بن عجلان سے مختلف طرق کے ذریعے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (3952) من طريق صفوان بن عيسى عن ابن عجلان.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث مصنف کے ہاں آگے نمبر (3952) پر صفوان بن عیسیٰ عن ابن عجلان کے طریق سے بھی آئے گی۔
قال ابن الأثير في "النهاية" (رين): أصل الرَّيْن: الطَّبْعُ والتغطية، ومنه قوله تعالى: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾، أي: طَبَعَ وخَتَم. وقال الفراء في "معاني القرآن" 3/ 246: كثرت المعاصي والذنوب منهم فأحاطت بقلوبهم، فذلك الرَّيْن عليها.
📝 نوٹ / توضیح: ابن اثیر نے "النھایۃ" (مادہ: رین) میں فرمایا: "الرین" کی اصل مہر لگانا اور ڈھانپ لینا ہے، اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾، یعنی: مہر لگا دی اور بند کر دیا۔ اور فراء نے "معانی القرآن" 3/ 246 میں کہا: جب ان کے گناہ اور نافرمانیاں زیادہ ہو گئیں تو انہوں نے ان کے دلوں کا احاطہ کر لیا، پس یہی ان (دلوں) پر "رین" (زنگ) ہے۔
وصُقِل: أي: جُلِيَ.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "صُقِل" کا مطلب ہے: "جُلِيَ" یعنی اسے صاف اور چمکدار کر دیا گیا۔
(2) في (ب): حديث صحيح.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں لکھا ہے: "حدیث صحیح"۔