🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

61. وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ وَيُضْحِكُ بِهِ الْقَوْمَ
ہلاکت ہو اس شخص کے لیے جو بات کرے اور جھوٹ بولے تاکہ لوگوں کو ہنسائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 143
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِيُّ، حدثنا أبو عاصم. وأخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز ومحمد بن مسلمة الواسطي قالا: حدثنا يزيد بن هارون؛ قالا: حدثنا بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جدِّه قال: سمعتُ نبي الله ﷺ يقول:"ويلٌ للذي يُحدِّث فيَكذِبُ ويُضحِكُ به القوم، ويلٌ له، ويلٌ له" (2) .
هذا حديث رواه سفيان بن سعيد والحمَّادان وعبد الوارث بن سعيد وإسرائيل ابن يونس وغيرُهم من الأئمة عن بَهْز بن حكيم، ولا أعلمُ خلافًا بين أكثر أئمة أهل النَّقْل في عَدَالة بهز بن حكيم، وأنه يُجمَع حديثه، وقد ذكره البخاريُّ في"الجامع الصحيح" (1) ، وهذا الحديث شاهد لحديث بلال بن الحارث المُزَنِي الذي قدَّمْنا ذكرَه. وقد روى سعيدُ بن إياس الجُرَيري عن حَكِيم بن معاوية، وروى عن أبي التَّيّاح الضُّبَعِي عن معاوية بن حَيْدةَ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 142 - وهذا شاهد لحديث بلال
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو ہنسائے، اس کے لیے تباہی ہے، اس کے لیے تباہی ہے۔
اس حدیث کو سفیان بن سعید، حمادین (حماد بن سلمہ و حماد بن زید)، عبدالوارث بن سعید اور اسرائیل بن یونس جیسے ائمہ نے بہز بن حکیم سے روایت کیا ہے، اور میں اہل نقل کے اکثر ائمہ کے درمیان بہز بن حکیم کی عدالت (سچائی) کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں جانتا، ان کی حدیث کو جمع کیا جاتا ہے اور امام بخاری نے اپنی جامع صحیح میں ان کا ذکر کیا ہے، اور یہ حدیث سیدنا بلال بن حارث مزنی کی اس حدیث کے لیے شاہد ہے جو ہم نے پہلے ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل بهز بن حكيم وأبيه» [ترقيم الرساله 143] [ترقيم الشركة 142] [ترقيم العلميه 142]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144
حدثنا عليُّ بن حَمْشاذَ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق والعباس بن الفضل قالا: حدثنا أحمد بن يونس. وأخبرني أحمد بن محمد العنزي - واللفظ له - حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيد قال: قال عمرُ: يا رسول الله، سمعتُ فلانًا يَذكُر ويُثْني خيرًا، زَعَمَ أَنك أعطيته دينارين، قال:"لكن فلانٌ ما يقول ذلك، ولقد أصابَ منِّي ما بين مئة إلى عَشَرة" قال: ثم قال:"وإنَّ أحدكم لَيَخْرُجُ من عندي بمسألته مُتأَبَّطَها - قال أحمد: أو نحوه - وما هي إلا نارٌ" قال: فقال عمر: يا رسول الله، فلِمَ تُعطيهم؟ قال:"ما أَصنَعُ؟ يسألوني ويأبى الله لى البخل" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه بهذه السِّياقة (1) . وقد رواه عبد الله بن بشر الرَّقِّي عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 143 - على شرط الشيخين
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں شخص کو آپ کا ذکر کرتے اور آپ کی تعریف کرتے ہوئے سنا ہے، اس کا خیال ہے کہ آپ نے اسے دو دینار عطا کیے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن فلاں شخص ایسی بات نہیں کرتا، حالانکہ اسے مجھ سے دس سے سو (دینار) کے درمیان مل چکے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی میرے پاس سے اپنا سوال (مانگی ہوئی چیز) لے کر نکلتا ہے اور اسے اپنی بغل میں دبائے ہوتا ہے، حالانکہ وہ (مانگی ہوئی چیز) اس کے لیے محض آگ ہوتی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پھر آپ انہیں کیوں عطا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیا کروں؟ وہ مجھ سے مانگتے ہیں اور اللہ کو یہ پسند نہیں کہ میں بخل سے کام لوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح مع أنه قد اختُلف فيه على الأعمش، فقد رواه عنه أبو بكر بن عياش وأبو معاوية وحِبّان بن علي العنزي - وهو ضعيف - عن أبي صالح السمان، إلّا أنَّ ابن عياش جعله من حديث أبي صالح عن أبي سعيد، وأبا معاوية جعله من حديثه عن أبي هريرة، ...» [ترقيم الرساله 144] [ترقيم الشركة 143] [ترقيم العلميه 143]

الحكم على الحديث: حديث صحيح مع أنه قد اختُلف فيه على الأعمش
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 145
حدَّثَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا الحسين بن محمد ابن زياد القَبَّاني، حدثنا داود بن رُشيد، حدثنا مُعمَّر (2) بن سليمان، عن عبد الله بن بشر، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر، عن عمر قال: دَخَلَ رجلان على رسول الله ﷺ فسألاهُ في شيءٍ، فدعا لهما بدينارين، فإذا هما يُثنيان خيرًا، فقال:"لكن فلانٌ ما يقول ذلك، ولقد أعطيتُه ما بين عشرةٍ إلى مئة فما يقول ذلك، فَإِنَّ أحدكم ليخرُجُ بصدقتِه من عندي متأبِّطَها، وإنما هي له نارٌ" فقلت: يا رسول الله، كيف تُعطيه وقد علمت أنه له نار؟ قال:"فما أصنَعُ؟ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ يسألوني، ويأبى الله لي البخل" (3) . أما معمَّر بن سليمان الرَّقِّي فلم يخرجاه، وقد خرَّج مسلم عن عبد الله بن بشر الرَّقِّى (1) ، إلّا أنَّ هذا الحديث ليس بعِلَّةٍ لحديث الأعمش عن أبي صالح، فإنه شاهد له بإسناد آخر.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کسی چیز کا سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دو دینار منگوائے، وہ دونوں آپ کی تعریف کرنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن فلاں شخص ایسی بات نہیں کرتا، حالانکہ میں نے اسے دس سے سو (دینار) کے درمیان عطا کیے ہیں مگر وہ ایسی تعریف نہیں کرتا، بے شک تم میں سے کوئی میرے پاس سے اپنی لی ہوئی خیرات کو اپنی بغل میں دبا کر نکلتا ہے حالانکہ وہ اس کے لیے آگ ہوتی ہے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اسے کیوں دیتے ہیں جبکہ آپ جانتے ہیں کہ وہ اس کے لیے آگ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیا کروں؟ وہ مانگنے کے سوا کسی بات پر راضی نہیں ہوتے، اور اللہ کو میرا بخل کرنا پسند نہیں۔
معمر بن سلیمان الرقی کی تخریج شیخین نے نہیں کی، حالانکہ امام مسلم نے عبداللہ بن بشر الرقی سے تخریج کی ہے، مگر یہ حدیث اعمش عن ابی صالح کی حدیث کے لیے علت نہیں ہے بلکہ دوسرے اسناد سے اس کے لیے شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر الكلام عليه في الحديث السابق» [ترقيم الرساله 145] [ترقيم الشركة 144]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں