🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

89. أَهْلُ الْجَنَّةِ الْمَغْلُوبُونَ الضُّعَفَاءُ، وَأَهْلُ النَّارِ كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ
جنت میں کمزور اور مظلوم لوگ جائیں گے اور جہنم میں ہر سرکش متکبر اور سخت دل شخص جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 203
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني موسى بن عُلَيِّ بن رَبَاحٍ، عن أبيه، عن سُرَاقة ابن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"ألا أنبِّئُكم بأهل الجنة؟ المغلوبون الضعفاءُ، وأهلُ النار كلُّ جَعظَرِيٍّ جوَّاظٍ مستكبِرٍ" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 202 - على شرط مسلم
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ وہ لوگ ہیں جو (دنیا والوں کی نظر میں) مغلوب اور کمزور سمجھے جاتے ہیں، اور (کیا میں تمہیں بتاؤں کہ) اہل جہنم ہر وہ شخص ہے جو بد زبان، سخت مزاج اور تکبر کی وجہ سے اکڑ کر چلنے والا ہو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد لا بأس برجاله ظاهره الاتصال، إلا أنه في الحقيقة منقطع، فقد، رواه أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ - وهو ثقة متقن - عن موسى بن علي عن أبيه قال: بلغني عن سراقة بن مالك، أخرجه من هذا الطريق أحمد في "مسنده" 29/ ...» [ترقيم الرساله 203] [ترقيم الشركة 202] [ترقيم العلميه 202]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 204
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا جعفر بن أبي عثمان الطَّيالسي، حدثنا سهل بن بكَّار، حدثنا حمَّاد سَلَمة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ فيما يَحْكي عن ربَّه ﷿ قال:"الكبرياءُ رِدَائي، فمن نازَعَني رِدائي قَصَمتُه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجه مسلم من حديث الأغرِّ عن أبي هريرة بغير هذا اللفظ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 203 - أخرجه مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا: بڑائی میری چادر ہے، پس جس کسی نے بھی میری اس چادر (صفتِ کبریا) کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا کیا (یعنی تکبر کیا) تو میں اسے توڑ کر رکھ دوں گا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، جبکہ امام مسلم نے اسے اغر کی حدیث سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ان الفاظ کے علاوہ (دیگر الفاظ) کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 204] [ترقيم الشركة 203] [ترقيم العلميه 203]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں