🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

92. قِصَّةُ خُرِوجِ عُمَرَ إِلَى الشَّامِ، وَقَوْلُهُ: إِنَّا قَوْمٌ أَعَزَّنَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، فَلَنْ نَبْتَغِيَ الْعِزَّةَ بِغَيْرِهِ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا شام کی طرف روانہ ہونا اور فرمانا: ہم وہ قوم ہیں جنہیں اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت بخشی، ہم کسی اور ذریعے سے عزت نہیں چاہیں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 208
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا علي بن المديني، حدثنا سفيان، حدثنا أيوب بن عائذ الطائيُّ، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب قال: خرج عمرُ بن الخطّاب إلى الشام ومعنا أبو عبيدة بن الجرَّاح، فأَتَوْا على مَخَاضةٍ وعمرُ على ناقة له، فنزل عنها وخَلَعَ خُفَّيهِ فوضعهما على عاتقِه، وأخذ بزمام ناقته فخاض بها المخاضة، فقال أبو عبيدة: يا أمير المؤمنين، أأنت تفعل هذا، أتخلَعُ خُفَّيكَ وتضعُهما على عاتقك وتأخذُ بزمام ناقتك، وتخوض بها المخاضة؟! ما يَسرُّني أنَّ أهل البلد استَشرَفُوك، فقال عمر: أوَّه، لو يقولُ (1) ذا غيرُك أبا عُبيدة، جعلتُه نَكَالًا لأُمة محمدٍ ﷺ، إنا كنا أذلَّ قومٍ فأعزَّنا الله بالإسلام، فمهما نطلبُ العزَّ بغير ما أعزَّنا اللهُ به، أذلَّنا الله (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين لاحتجاجهما جميعًا بأيوب بن عائذٍ الطائي وسائر رواته، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث الأعمش عن قيس بن مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 207 - على شرطهما
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف روانہ ہوئے اور ہمارے ساتھ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی تھے، پس جب وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں سے پانی گزر رہا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی اونٹنی پر سوار تھے، تو وہ سواری سے نیچے اترے، اپنے دونوں موزے اتارے اور انہیں اپنے کندھے پر رکھ لیا، پھر اپنی اونٹنی کی لگام تھام کر اسے پانی میں سے گزارنے لگے، تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے (حیرت سے) عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ ایسا کر رہے ہیں کہ اپنے موزے اتار کر کندھے پر رکھ لیے ہیں، اونٹنی کی لگام خود تھامی ہے اور اسے پانی میں سے گزار رہے ہیں؟ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اس شہر کے لوگ آپ کو اس حال میں دیکھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! اے ابوعبیدہ، کاش یہ بات تمہارے علاوہ کسی اور نے کہی ہوتی، میں اسے امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عبرت بنا دیتا، حقیقت یہ ہے کہ ہم سب سے ذلیل قوم تھے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی، پس جب کبھی بھی ہم اس راستے کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کریں گے جس کے ذریعے اللہ نے ہمیں عزت دی ہے، تو اللہ ہمیں (دوبارہ) ذلیل و خوار کر دے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ ان دونوں نے ایوب بن عائذ طائی اور دیگر تمام راویوں سے استدلال کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اعمش کی حدیث سے قیس بن مسلم کے واسطے سے اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 208]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 209
حدَّثناه علي بن حَمْشَاذَ العدلُ، حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكن الواسطي، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن قيس بن مُسلِم، عن طارق بن شِهَاب قال: لمّا قَدِمَ عمرُ الشامَ، لَقِيَه الجنودُ وعليه إزارٌ وخُفَّانِ وعِمامة، وهو آخذٌ برأس بعيره يخوضُ الماء، فقال له -يعني قائل-: يا أمير المؤمنين، تَلْقاكَ الجنودُ وبَطارِقةُ الشام وأنت على حالك هذه؟! فقال عمر: إنا قومٌ أعزنا الله بالإسلام، فلن نبتغي العِزَّ بغيره (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 208 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام پہنچے تو (استقبال کے لیے) لشکر ان سے ملا، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک تہبند، موزوں اور عمامے میں ملبوس تھے اور اپنے اونٹ کی نکیل پکڑ کر اسے پانی میں سے گزار رہے تھے، تو کسی کہنے والے نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ سے لشکر اور شام کے بڑے سردار (بطارقہ) ملاقات کر رہے ہیں اور آپ اس حال میں ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک ہم وہ قوم ہیں جنہیں اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت بخشی ہے، لہٰذا ہم اسلام کے سوا کسی اور چیز میں ہرگز عزت تلاش نہیں کریں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 209]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں