🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

115. الْأَخِلَّاءُ ثَلَاثَةٌ
دوستوں کی تین اقسام ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 250
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى وأبو الحسن بن أبي القاسم العَدَوي قالا: حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن حفص بن عبد الله، حدثني أَبي، حدثني إبراهيم بن طَهْمانَ، عن الحَجَّاج، عن قَتَادة، عن أنس بن مالك أنه قال: قال رسول الله ﷺ:"الأخِلَّاءُ ثلاثةٌ: فأما خليلٌ فيقول: لك ما أعطيتَ وما أمسكتَ فليس لك، فذلك مالُك، وأما خليلٌ فيقول: أنا معك حتى تأتيَ بابَ الملِك، ثم أرجِعُ وأترُكُك، فذلك أهلُك وعَشيرتُك، يُشيِّعونَك حتى تأتيَ قبرَك، ثم يَرجِعون فيَترُكونَك، وأمّا خليلٌ فيقول: أنا معك حيث دخلتَ وحيث خرجتَ، فذلك عملُه، فيقول: والله لقد كنتَ من أهوَنِ الثلاثةِ عليَّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فقد احتجَّا جميعًا بالحجَّاج بن الحجَّاج، ولا أعرفُ له عِلَّةً، ولم يُخرجاه على هذه السِّياقة، وله شاهد قد خرَّجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 248 - على شرطهما ولا علة له
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوست تین طرح کے ہوتے ہیں؛ ایک وہ دوست ہے جو کہتا ہے: جو تو نے (اللہ کی راہ میں) دے دیا وہ تیرا ہے اور جو تو نے روک لیا وہ تیرا نہیں ہے، تو وہ تمہارا ’مال‘ ہے۔ دوسرا دوست وہ ہے جو کہتا ہے: میں تمہارے ساتھ ہوں یہاں تک کہ تم بادشاہ کے دروازے تک پہنچ جاؤ، پھر میں واپس لوٹ جاؤں گا اور تمہیں تنہا چھوڑ دوں گا، تو یہ تمہارے ’اہل و عیال اور رشتہ دار‘ ہیں جو تمہارے جنازے کے ساتھ قبر تک جاتے ہیں اور پھر تمہیں چھوڑ کر واپس آ جاتے ہیں۔ اور تیسرا دوست وہ ہے جو کہتا ہے: تم جہاں بھی داخل ہوگے اور جہاں سے بھی نکلو گے میں تمہارے ساتھ رہوں گا، تو وہ انسان کا ’عمل‘ ہے، (اس وقت انسان اپنے عمل سے کہتا ہے:) اللہ کی قسم! تم ان تینوں میں سے میرے لیے سب سے زیادہ معمولی اور کم تر حیثیت رکھتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے حجاج بن حجاج سے احتجاج کیا ہے، اس میں کوئی علت نہیں ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق (ترتیب) کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) موجود ہے جسے انہوں نے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 250]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، الحجاج: هو ابن الحجاج الباهلي البصري الأحول» [ترقيم الرساله 250] [ترقيم الشركة 248] [ترقيم العلميه 248]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں