المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. خُطْبَتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
رسولُ اللہ ﷺ کا حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ۔
حدیث نمبر: 322
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا العباس بن الفضل الأَسفاطي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس. وأخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا ابن أبي أُويس، حدثني أبي، عن ثَوْر بن زيد الدِّيلي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ خَطَبَ الناسَ في حجَّة الوداع، فقال:"إنَّ الشيطان قد يَئِسَ بأن يُعبَدَ بأرضِكم، ولكنه رَضِيَ أن يُطَاعَ فيما سوى ذلك ممّا تَحاقَرُونَ من أعمالكم، فاحذَرُوا يا أيها الناس. إني قد تركتُ فيكم ما إن اعتصمتُم به فلن تَضِلُّوا أبدًا: كتابَ الله، وسنةَ نبيِّه ﷺ. إنَّ كلَّ مسلمٍ أخٌ مسلمٌ (1) ، المسلمون إخوةٌ، ولا يحِلُّ لامرئٍ من مالِ أخيه إلّا ما أعطاه عن طِيبِ نفس. ولا تَظلِموا ولا تَرجِعوا من بعدي كفارًا يَضرِبُ بعضُكم رِقابَ بعض (2) . وقد احتجَّ البخاري بأحاديث عِكْرمة، واحتجَّ مسلم بأبي أُويس عبد الله بن أُويس، وسائرُ رواته متَّفَق عليهم، وهذا الحديث لخُطْبة النبي ﷺ متفقٌ على إخراجه في"الصحيح" (1) :"يا أيها الناس، إني قد تركتُ فيكم ما لن تَضِلُّوا بعده إن اعتصمتُم به: كتابَ الله، وأنتم مسؤولون عني، فما أنتم قائلون؟. وذِكرُ الاعتصام بالسُّنّة في هذه الخطبة غريب، ويُحتَاج إليها. وقد وجدتُ له شاهدًا من حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 318 - احتج البخاري بعكرمة واحتج مسلم بأبي أويس عبد الله وله أصل في الصحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 318 - احتج البخاري بعكرمة واحتج مسلم بأبي أويس عبد الله وله أصل في الصحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”بے شک شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہاری اس زمین میں (دوبارہ) اس کی پوجا کی جائے گی، لیکن وہ اس بات پر راضی ہے کہ تم اپنے جن اعمال کو معمولی اور حقیر سمجھتے ہو ان میں اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا اے لوگو! (شیطان سے) باخبر رہو۔ میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھام لیا تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔ بے شک ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اور کسی شخص کے لیے اپنے بھائی کا مال حلال نہیں سوائے اس کے جو وہ خوش دلی سے عطا کر دے۔ تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اور میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“
امام بخاری نے عکرمہ کی احادیث سے احتجاج کیا ہے اور امام مسلم نے ابواویس عبداللہ بن اویس سے احتجاج کیا ہے، باقی تمام راوی متفق علیہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خطبے کی روایت ”صحیح“ میں روایت کرنے پر اتفاق ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: ”اے لوگو! میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے اگر اسے تھامے رکھا: اللہ کی کتاب، اور تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا، تو تم کیا کہو گے؟“ اس خطبے میں سنت کو تھامنے کا ذکر غریب ہے اور اس کی ضرورت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 322]
امام بخاری نے عکرمہ کی احادیث سے احتجاج کیا ہے اور امام مسلم نے ابواویس عبداللہ بن اویس سے احتجاج کیا ہے، باقی تمام راوی متفق علیہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خطبے کی روایت ”صحیح“ میں روایت کرنے پر اتفاق ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: ”اے لوگو! میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے اگر اسے تھامے رکھا: اللہ کی کتاب، اور تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا، تو تم کیا کہو گے؟“ اس خطبے میں سنت کو تھامنے کا ذکر غریب ہے اور اس کی ضرورت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 322]
حدیث نمبر: 323
أخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن الواسطي، حدثنا داود بن عمرو الضَّبِّي، حدثنا صالح بن موسى الطَّلْحي، عن عبد العزيز بن رُفَيع، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إني قد تركتُ فيكم شيئينِ لن تَضِلُّوا بعدَهما: كتابَ الله وسُنَّتي، ولن يَتفرَّقا حتى يَرِدَا عليَّ الحوضَ" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جن کے بعد تم ہرگز گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت، اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 323]
حدیث نمبر: 324
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن الخُراساني العَدْل ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حدثنا أبو داود سليمان بن داود، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس بن مالك قال: كان أخَوانِ على عهد النبي ﷺ، فكان أحدهما يأتي النبيَّ ﷺ والآخر يَحتَرِفُ، فشَكَا المحتَرِفُ أخاه إلى النبي ﷺ، فقال:"لعلَّكَ تُرزَقُ به" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ورواته عن آخرهم أثبات ثِقات، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 320 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ورواته عن آخرهم أثبات ثِقات، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 320 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک (علم حاصل کرنے کے لیے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا تھا اور دوسرا محنت مزدوری کرتا تھا، تو محنت کرنے والے نے اپنے بھائی کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی (کہ وہ کام میں ہاتھ نہیں بٹاتا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تمہیں اس (بھائی کی برکت) سے ہی رزق دیا جا رہا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس کے تمام راوی پختہ اور ثقہ ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 324]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس کے تمام راوی پختہ اور ثقہ ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 324]