🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. فَضِيلَةُ الْمَشْيِ إِلَى الْمَسْجِدِ
مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 860
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن أبي عُشَّانةَ، أنه سمع عُقْبةَ بن عامر الجُهَني يحدِّث عن رسول الله ﷺ أنه قال:"إذا تَطهَّرَ الرجلُ، ثم مرَّ إلى المسجد فيَرعَى الصلاةَ، كَتَبَ له كاتبُه - أو كاتباه - بكلِّ خَطْوةٍ يَخطُوها إلى المسجد عشرَ حَسَنات، والقاعدُ يَرعَى الصلاةَ كالقانت، ويُكتَبُ من المصلِّين من حينِ يخرجُ من بيتِه حتى يَرجِعَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 766 - على شرط مسلم
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص پاکیزگی حاصل کر کے مسجد کی طرف جاتا ہے اور نماز کا انتظار کرتا ہے، تو اس کے کاتبین (فرشتے) اس کے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھتے ہیں، اور نماز کا انتظار کرنے والا تسبیح پڑھنے والے (عبادت گزار) کے مانند ہے، اور وہ اپنے گھر سے نکلنے کے وقت سے واپسی تک نمازیوں ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 860]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 861
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَرِيك البزَّار، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث بن سعد، عن الحارث بن يعقوب، عن قيس بن رافع القَيْسي، عن عبد الرحمن بن جُبير، عن عبد الله بن عمرو: أنه مَرَّ بمعاذ بن جَبَل وهو قاعد على بابه يشيرُ بيده كأنه يحدِّث نفسَه، فقال له عبد الله: ما شأنُك يا أبا عبد الرحمن تحدِّثُ نفسَك؟ قال: وما لي، يريد عدوُّ الله أن يُلهِيَني عن كلام سمعتُه من رسول الله ﷺ، قال (2) : مكابدُ دَهْرِك الآن في (3) [بيتكَ] ! ألَا تخرجُ إلى المسجد فتَحدَّثُ، وأنا سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من جاهَدَ في سبيل الله كان ضامنًا على الله، ومن جَلَسَ في بيته لا يغتابُ أحدًا بسُوءٍ كان ضامنًا على الله، ومن عادَ مريضًا كان ضامنًا على الله، ومن غَدَا إلى المسجد أو راحَ كان ضامنًا على الله، ومن دَخَلَ على إمامٍ يُعزِّرُه كان ضامنًا على الله"، فيريد عدوُّ الله أن يُخرجَني من بيتي إلى المجلس (4) .
هذا حديث رواته مِصريُّون ثِقاتٌ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 767 - رواته ثقات
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا گزر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ اپنے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! آپ یہاں اکیلے بیٹھے اپنے آپ سے کیا باتیں کر رہے ہیں؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کا دشمن (شیطان) مجھے اس کلام سے غافل کرنا چاہتا ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے وہ اللہ کے ذمہ (امان) میں ہے، جو اپنے گھر میں بیٹھے اور کسی کی غیبت نہ کرے وہ اللہ کے ذمہ میں ہے، جو مریض کی عیادت کرے وہ اللہ کے ذمہ میں ہے، جو مسجد کی طرف جائے وہ اللہ کے ذمہ میں ہے، اور جو کسی (عادل) حکمران کے پاس اس کی تعظیم کے لیے جائے وہ اللہ کے ذمہ میں ہے۔ پس اللہ کا دشمن چاہتا ہے کہ میں اپنے گھر سے نکل کر لوگوں کی مجلس میں چلا جاؤں (تاکہ یہ اجر ضائع ہو)۔
اس کے راوی ثقہ مصری ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 861]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں