🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

80. سَبِّحْ وَاحْمَدْ وَكَبِّرِ اللَّهَ عَشْرًا عَشْرًا ثُمَّ سَلِ اللَّهَ مَا شِئْتَ
دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمد للہ، اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہو، پھر اللہ سے جو چاہو مانگو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 950
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا محمد بن مُقاتِل المروَزي، حدثنا ابن المبارَك، حدثنا عِكْرمة بن عمَّار، حدثني إسحاق بن عبد الله بن أبي طَلْحة، عن أنس بن مالك قال: جاءت أمُّ سُلَيم إلى النبي ﷺ فقالت: يا رسول الله، علِّمْني شيئًا أدعُو به في صلاتي، فقال:"سَبِّحي اللهَ عشرًا، واحمَدِي اللهَ عشرًا، وكبِّري اللهَ عشرًا، ثم سَلِي اللهَ ما شئتِ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 937 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کچھ ایسی چیز سکھا دیجیے جس کے ذریعے میں اپنی نماز میں دعا مانگوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دس بار سبحان اللہ کہو، دس بار الحمدللہ کہو اور دس بار اللہ اکبر کہو، پھر اللہ سے جو چاہو مانگو۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 950]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 951
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد، حدثنا الأزرق بن قيس: أنه رأى أبا بَرْزةَ الأسلمي يصلِّي وعِنانُ دابَّته في يده، فلما ركع انفلَتَ العِنانُ من يده فانطَلَقَت الدابَّةُ، فَنَكَصَ أبو بَرْزَةَ على عَقِبه ولم يَلتفِتْ حتى لَحِقَ الدابةَ وأخذها، ثم مشى كما هو، ثم أَتى مكانَه الذي صلَّى فيه فقَضَى صلاتَه، فأتمَّها ثم سَلَّم، ثم قال: إني قد صَحِبتُ رسولَ الله ﷺ في غزوٍ كثيرٍ - حتى عدَّ غَزَواتٍ - فرأيت من رُخصتِه وتيسيره، فأخذتُ بذلك، فلو أني تركتُ دابَّتي حتى تَلحَقَ بالصحراء ثم انطلقتُ شيخًا كبيرًا أتخبَّط الظُّلمةَ، كان أشدَّ عليَّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 938 - على شرط البخاري
ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ان کے جانور کی لگام ان کے ہاتھ میں تھی۔ جب انہوں نے رکوع کیا تو لگام ہاتھ سے چھوٹ گئی اور جانور بھاگنے لگا، سیدنا ابوبرزہ پیچھے کی طرف ہٹے اور اپنی نظریں ہٹائے بغیر جانور کے پیچھے گئے یہاں تک کہ اسے پکڑ لیا، پھر وہ اسی طرح چل کر اپنی جگہ واپس آئے جہاں نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نماز مکمل کی، پھر سلام پھیرا اور فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی غزوات میں شریک رہا ہوں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے رخصت اور آسانی دیکھی ہے، اس لیے میں نے اسی پر عمل کیا؛ اگر میں جانور کو چھوڑ دیتا تو وہ صحرا کی طرف نکل جاتا اور میں بوڑھا آدمی اندھیرے میں بھٹکتا پھرتا تو یہ میرے لیے بہت زیادہ مشکل ہوتا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 951]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں