المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
80. سبح واحمد وكبر الله عشرا عشرا ثم سل الله ما شئت
دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمد للہ، اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہو، پھر اللہ سے جو چاہو مانگو۔
حدیث نمبر: 950
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا محمد بن مُقاتِل المروَزي، حدثنا ابن المبارَك، حدثنا عِكْرمة بن عمَّار، حدثني إسحاق بن عبد الله بن أبي طَلْحة، عن أنس بن مالك قال: جاءت أمُّ سُلَيم إلى النبي ﷺ فقالت: يا رسول الله، علِّمْني شيئًا أدعُو به في صلاتي، فقال:"سَبِّحي اللهَ عشرًا، واحمَدِي اللهَ عشرًا، وكبِّري اللهَ عشرًا، ثم سَلِي اللهَ ما شئتِ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 937 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 937 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کچھ ایسی چیز سکھا دیجیے جس کے ذریعے میں اپنی نماز میں دعا مانگوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دس بار سبحان اللہ کہو، دس بار الحمدللہ کہو اور دس بار اللہ اکبر کہو، پھر اللہ سے جو چاہو مانگو۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 950]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 950]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 950 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. وسيأتي برقم (1206).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے اور یہ آگے نمبر (1206) پر آئے گی۔
وأخرجه الترمذي (481) عن أحمد بن محمد بن موسى، عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (481) نے احمد بن محمد بن موسیٰ عن ابن المبارک کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وزاد: "يقول: نعم نعم". وقال الترمذي: حديث حسن غريب.
📝 (توضیح): اس میں یہ اضافہ ہے کہ (آپ ﷺ دعا پر) "نعم نعم" (ہاں، ہاں) کہتے تھے۔ ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (12207)، والنسائي (1223)، وابن حبان (2011) من طريق وكيع، عن عكرمة بن عمار، به. وبوَّب له النسائي: الذِّكر بعد التشهُّد، وبوَّب له ابن حبان: عَقِبَ الصلاة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (12207/19)، نسائی (1223) اور ابن حبان (2011) نے وکیع عن عکرمہ بن عمار کی سند سے روایت کیا ہے۔ نسائی نے اسے "تشہد کے بعد کے اذکار" اور ابن حبان نے "نماز کے بعد" کے ابواب میں ذکر کیا ہے۔