المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
79. الهرة لا تقطع الصلاة
بلی کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
حدیث نمبر: 949
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا إسماعيل - وهو ابن إبراهيم - حدثنا محمد بن إسحاق، حدثني عبد الواحد بن حمزة بن عبد الله بن الزُّبير، عن عبَّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول في بعض صلاته:"اللهمَّ حاسِبْني حِسابًا يسيرًا" فلما انصرف قلت: يا رسول الله، ما الحسابُ اليسير؟ قال:"يُنظَرُ في كتابِه ويُتَجاوَزُ له عنه، إنه مَن نُوقِشَ الحسابَ يومئذٍ يا عائشةُ هَلَكَ، فكلُّ ما يصيب المؤمنَ يُكفِّرُ الله عنه، حتى الشَّوكةُ تَشُوكُه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 936 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 936 - على شرط مسلم
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کسی نماز میں یہ کہتے سنا: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» "(اے اللہ!) میرا حساب آسانی کے ساتھ فرمانا۔" جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آسان حساب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ یہ کہ اس کے نامہ اعمال کو دیکھا جائے گا اور اس سے درگزر کر دیا جائے گا، کیونکہ اے عائشہ! جس کے حساب میں جرح و بحث کی گئی وہ اس دن ہلاک ہو گیا، پس مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے یہاں تک کہ اسے چبھنے والا کانٹا بھی۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 949]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 949]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 949 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح دون قصة دعائه ﷺ في الصلاة بـ "اللهم حاسبني حسابًا يسيرًا"، فهي زيادة شاذة كما سبق بيانه برقم (191).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) "اللہم حاسبنی حساباً یسیراً" کی دعا کے قصے کے بغیر یہ حدیث صحیح ہے؛ یہ دعا والا حصہ "شاذ" ہے جیسا کہ پہلے نمبر (191) پر واضح کیا گیا۔