🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

66. مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدٌ أَوْ وَلَدَانِ أَوْ ثَلَاثٌ
جس کے ایک، دو یا تین بچے فوت ہو جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1432
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا خَلّاد بن يحيى، حدثنا بَشِير بن مُهاجِر. وحدثنا بُكَير بن محمد بن الحدَّاد الصُّوفي بمكة، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا واصل بن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا بَشِير بن مُهاجِر، عن عبد الله بن بُرَيدةَ، عن أبيه قال: كان رسولُ الله ﷺ يتعهَّد الأنصارَ ويَعُودُهم، ويَسأَل عنهم، فبَلَغَه عن امرأةٍ من الأنصار مات ابنُها وليس لها غيرُه، وأنها جَزِعَتْ عليه جَزَعًا شديدًا، فأَتى النبيُّ ﷺ فَأَمَرها بتقوى الله وبالصَّبر، فقالت: يا رسولَ الله، إنِّي امرأةٌ رَقُوبٌ لا أَلِدُ ولم يكن لي غيرُه، فقال رسول الله ﷺ:"الرَّقُوبُ الذي يبقى ولدُها"، ثم قال:"ما مِن امرِئٍ أو امرأةٍ مسلمةٍ يموتُ لها ثلاثةُ أولادٍ، إلّا أدخَلَهُم اللهُ بهم الجنةَ"، فقال عمر: يا رسولَ الله، بأبي وأمي، واثنان؟ قال:"واثنانِ" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بذِكر الرَّقُوب.
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ان کی عیادت کو جایا کرتے تھے۔ ان کی احوال پرسی کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک انصاری خاتون کی خبر پہنچی کہ اس کا بیٹا فوت ہو گیا ہے اور (اس کا یہی بیٹا اس کی کل کائنات تھا۔ کیونکہ) اس بیٹے کے سوا اس کا اور کوئی وارث نہ تھا۔ اور سانحہ پر وہ شدید گھبراہٹ کا شکار تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور صبر اور تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔ اس نے جواباً کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں رقوب عورت ہوں یعنی میرے بچے زندہ نہیں رہتے) اور اب میرا صرف یہی ایک بیٹا تھا میرا اس کے سوا کوئی بھی نہیں تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رقوب وہ عورت ہوتی ہے جس کے بچے زندہ رہتے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی مسلمان مرد یا عورت کے تین بچے فوت ہو گئے ہوں، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرتا ہے۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور (جس کے صرف) دو (بچے فوت ہوئے ہوں) کیا وہ بھی جنتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: اور (جی ہاں جس کے صرف) دو (بچے فوت ہوئے ہوں وہ بھی جنتی ہے)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے رقوب کا ذکر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1432]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1433
حدثنا أبو الصَّقْر أحمد بن الفَضْل الكاتب بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة، سمعت معاوية بن قُرَّة. وحدثنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن معاوية بن قُرَّة، يحدِّث عن أبيه: أنَّ رجلًا كان يأتي النبيَّ ﷺ ومعه ابنٌ له، فقال له النبيُّ ﷺ:"أتحبُّه؟" فقال: أَحبَّك الله كما أُحبُّه، ففَقَدَه النبيُّ ﷺ، فقال:"ما فَعَلَ فلان؟" قالوا: مات ابنُه، فقال النبيُّ ﷺ:"أما يَسرُّك أن لا تأتيَ بابًا من أبواب الجنة إلّا وَجَدْتَه يَنتظِرُك؟" فقال رجل: أَلَه خاصّةً أو لِكُلِّنا؟ قال:"بل لِكُلِّكُم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، لمَا قدَّمتُ الذِّكر من تفرُّد التابعي الواحد بالرواية عن الصحابي (1) .
سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا کرتا تھا۔ اور اس کے ہمراہ اس کا بیٹا بھی ہوتا تھا (ایک مرتبہ) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ آپ سے محبت کرے جیسا کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں۔ (پھر وہ ایک عرصہ تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہوا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کمی محسوس کی، آپ علیہ السلام نے پوچھا: فلاں کا کیا ہوا؟ حصابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اس کا بیٹا مر گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس بات کی خوشی نہیں ہے کہ تم جنت کے جس دروازے سے بھی داخل ہو، وہیں پر اسے اپنا منتظر پاؤ؟ ایک شخص نے پوچھا: کیا یہ (فضیلت) صرف اسی کے لیے ہے یا ہم سب کے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ فضیلت صرف اس اکیلے کے لیے نہیں ہے) بلکہ تم سب کے لیے ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے جیسا کہ پہلے بھی ذکر گزرا ہے کہ صحابی سے روایت کرنے والا تابعی متفرد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1433]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں