المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
66. من مات له ولد أو ولدان أو ثلاث
جس کے ایک، دو یا تین بچے فوت ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 1433
حدثنا أبو الصَّقْر أحمد بن الفَضْل الكاتب بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة، سمعت معاوية بن قُرَّة. وحدثنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن معاوية بن قُرَّة، يحدِّث عن أبيه: أنَّ رجلًا كان يأتي النبيَّ ﷺ ومعه ابنٌ له، فقال له النبيُّ ﷺ:"أتحبُّه؟" فقال: أَحبَّك الله كما أُحبُّه، ففَقَدَه النبيُّ ﷺ، فقال:"ما فَعَلَ فلان؟" قالوا: مات ابنُه، فقال النبيُّ ﷺ:"أما يَسرُّك أن لا تأتيَ بابًا من أبواب الجنة إلّا وَجَدْتَه يَنتظِرُك؟" فقال رجل: أَلَه خاصّةً أو لِكُلِّنا؟ قال:"بل لِكُلِّكُم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، لمَا قدَّمتُ الذِّكر من تفرُّد التابعي الواحد بالرواية عن الصحابي (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، لمَا قدَّمتُ الذِّكر من تفرُّد التابعي الواحد بالرواية عن الصحابي (1) .
سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا کرتا تھا۔ اور اس کے ہمراہ اس کا بیٹا بھی ہوتا تھا (ایک مرتبہ) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ آپ سے محبت کرے جیسا کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں۔ (پھر وہ ایک عرصہ تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہوا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کمی محسوس کی، آپ علیہ السلام نے پوچھا: فلاں کا کیا ہوا؟ حصابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اس کا بیٹا مر گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس بات کی خوشی نہیں ہے کہ تم جنت کے جس دروازے سے بھی داخل ہو، وہیں پر اسے اپنا منتظر پاؤ؟ ایک شخص نے پوچھا: کیا یہ (فضیلت) صرف اسی کے لیے ہے یا ہم سب کے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ فضیلت صرف اس اکیلے کے لیے نہیں ہے) بلکہ تم سب کے لیے ہے۔ ٭٭ یہ حدیث ” صحیح الاسناد “ ہے جیسا کہ پہلے بھی ذکر گزرا ہے کہ صحابی سے روایت کرنے والا تابعی متفرد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1433]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1433 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. ¤ ¤ وهو في "مسند أحمد" 33/ (20366)، وقرن بمحمد بن جعفر يزيدَ بن هارون.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ مسند احمد (20366/33) میں بھی یہ موجود ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا 24/ (15595) و 33/ (20365)، والنسائي (2009)، وابن حبان (2947) من طريقين عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (15595/24)، نسائی اور ابن حبان نے شعبہ کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔