المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. صَدَقَةُ الرِّقَةِ
چاندی کی زکوٰۃ (رقّہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1469
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا سعيد (2) بن سليمان، حدثنا محمد بن مُسلِم، حدثنا عمرو بن دينار، قال: سمعتُ جابر بن عبد الله قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا صَدَقةَ في الرِّقَةِ حتى تَبلُغَ مئتي درهمٍ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه بالشرح حديثُ عاصم بن ضَمْرة:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه بالشرح حديثُ عاصم بن ضَمْرة:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” چاندی کے بنے ہوئے درہموں میں اس وقت تک زکوۃ نہیں ہے جب تک ان کی قیمت 200 درہم تک نہ پہنچ جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ مذکورہ حدیث کی تفصیلی حدیث شاہد ہے جو کہ عاصم بن ضمرہ سے مروی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1469]
حدیث نمبر: 1470
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي إسحاق، عن عاصم بن ضَمْرة، عن عليٍّ، عن النبي ﷺ قال:"ليس في تِسعينَ ومئة شيءٌ، فإذا بَلَغَتْ مئتين ففيها خَمسةُ دراهم" (1) .
سیدنا عاصم بن ضمرہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: 199 درہموں میں کوئی زکوۃ نہیں ہے اور جب 200 ہو جائیں تو ان میں 5 درہم زکوۃ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1470]
حدیث نمبر: 1471
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي. وأخبرنا محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنْطَري ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة؛ قالا: حدثنا أبو عاصم، عن سفيان، عن عاصم بن كُلَيب، عن أبيه، عن وائل بن حُجْر، عن النبي ﷺ: أنه بَعَثَ إلى رجلٍ، فبَعَثَ إليه بفَصِيلٍ مَخْلولٍ، فقال رسول الله ﷺ:"جاءه مُصَدِّقُ الله، ومُصَدِّقُ رسوله، فبَعَثَ بفَصيلٍ مَخلولٍ، اللهم لا تباركْ له فيه ولا في إبلِهِ"، فبلغ ذلك الرجلَ، فبَعَثَ إليه بناقةٍ من حُسْنها وجمالها، فقال رسول الله ﷺ:"بَلَغَ فلانًا ما قال رسولُ الله ﷺ فبَعَثَ بناقةٍ من حُسْنها، اللهم بارِكْ فيه وفي إبلِه" (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک آدمی کے پاس (زکوۃ وصول کرنے کے لئے) بھیجا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اونٹنی کا ایک دبلا سا بچہ (جس نے ابھی دودھ پینا چھوڑا تھا) بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس اللہ کا مصدق اور اللہ کے رسول کا مصدق آیا اور اس نے اونٹنی کا یہ دبلا سا بچہ بھیجا ہے۔ یا اللہ! اس میں برکت نہ دے اور نہ ہی اس کے اونٹوں میں برکت دے۔ اس بات کی خبر اس شخص کو بھی ہو گئی تو اس نے ایک اونٹنی انتہائی تندرست اور خوبصورت آپ کی طرف بھیج دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں شخص تک وہ بات پہنچ گئی جو اللہ کے رسول نے کہی: تو اس نے انتہائی تندرست اور خوبصورت اونٹنی بھیج دی ہے۔ یا اللہ! اس میں اور اس کے اونٹوں میں برکت عطا فرما۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1471]
حدیث نمبر: 1472
أخبرنا محمد بن موسى الصَّيدَلاني، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المُثنَّى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن حارثة بن مُضَرِّب قال: جاء ناسٌ من أهل الشام إلى عمر، فقالوا: إنا قد أصَبْنا أموالًا؛ خيلًا ورقيقًا، نحبُّ أن يكون لنا فيها زكاةٌ وطُهورٌ، قال: ما فَعَلَه صاحباي قَبْلي فأفعَلُه، فاستشار عمرُ عليًّا في جماعةٍ من أصحاب رسول الله ﷺ، فقال عليٌّ: هو حَسَنٌ إن لم يكن جِزيةً يُؤخَذون بها راتبةً (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، إلّا أنَّ الشيخين لم يُخرجا عن حارثة، وإنما ذكرتُه في هذا الموضع للمُحْدَثات الراتبة التي فُرِضَتْ في............... (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، إلّا أنَّ الشيخين لم يُخرجا عن حارثة، وإنما ذكرتُه في هذا الموضع للمُحْدَثات الراتبة التي فُرِضَتْ في............... (2) .
سیدنا حارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اہل شام میں سے کچھ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہمیں بہت سارا مال ملا ہے جس میں گھوڑے اور غلام شامل ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان میں سے ہمارے لیے زکوۃ ہو آپ نے فرمایا: مجھ سے پہلے میرے دونوں ساتھیوں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر) نے جو کیا تھا میں بھی وہی کروں گا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول کی ایک جماعت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اگر ان سے مستقل جزیہ نہیں لیا جاتا، تو ٹھیک ہے (ان سے زکوۃ وصول کی جائے)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو حارثہ کے حوالے سے نقل نہیں کیا۔ میں نے اس کو اس کے مقام پر نئے مقرر کردہ ٹیکسوں کی وجہ سے ذکر کیا ہے (اس مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1472]