المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. زَكَاةُ الْفِطْرِ طُهْرَةٌ لِلصِّيَامِ
زکوٰۃ الفطر روزے کے لیے پاکیزگی ہے۔
حدیث نمبر: 1504
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران الإسماعيلي، حدثنا أبي، حدثنا محمود بن خالد الدِّمشقي، حدثنا مروان بن محمد الدِّمشقي، حدثنا يزيد بن مسلم الخَوْلاني (1) - وكان شيخَ صدقٍ، وكان عبد الله بن وَهْبٍ يحدِّث عنه - حدثنا سَيَّار بن عبد الرحمن الصَّدَفي، عن عِكرِمة، عن ابن عباس قال: فَرَضَ رسول الله ﷺ زكاةَ الفِطر طُهرةً للصِّيام (2) من اللَّغو والرَّفَث، وطُعْمةً للمساكين، مَن أدّاها قبلَ الصلاة، فهي زكاةٌ مقبولة، ومن أدّاها بعد الصلاة، فهي صدقةٌ من الصَّدقات (3) .
هذا حديثٌ صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1488 - على شرط البخاري
هذا حديثٌ صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1488 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر لازم کیا ہے، یہ روزوں کو لغو اور فضول باتوں سے (اگر روزے کے دوران ہو گئی ہوں) پاک کرتا ہے اور یہ مسکینوں کا رزق ہے۔ جو اس کو نمازِ (عید) سے پہلے ادا کر دے اس کا صدقہ فطر قبول ہے اور جو اس کو نماز کے بعد ادا کرے تو یہ عام صدقوں میں سے ایک صدقہ ہو گا۔ (لیکن بہرحال یہ بھی ادا ہی ہو گا۔) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1504]
حدیث نمبر: 1505
أخبرنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرفي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا عبد العزيز بن أبي رَوَّاد، عن نافع، عن ابن عمر قال: كان الناسُ يُخرِجون صدقةَ الفِطْر على عهد رسول الله ﷺ صاعًا من شَعير، أو صاعًا من تمر، أو سُلْتٍ، أو زَبيب (1) .
هذا حديث (2) صحيحٌ، عبد العزيز بن أبي رَوَّاد ثقةٌ عابد، واسم أبي رَوّاد: أيمن، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
هذا حديث (2) صحيحٌ، عبد العزيز بن أبي رَوَّاد ثقةٌ عابد، واسم أبي رَوّاد: أيمن، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا خشک انگور یا بغیر چھلکے کے جو صدقۂ فطر دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ عبدالعزیز بن روادثقہ ہیں، عابد ہیں اور ابوداؤد کا نام ” ایمن “ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1505]
حدیث نمبر: 1506
حدثنا علي بن عيسى الحِيْريّ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب وعبد الله بن محمد، قالا: حدثنا محمد بن عبد الأعلى، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن نافع، عن ابن عمر، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول حين فَرَضَ صدقة الفِطر:"صاعًا من تمرٍ، أو صاعًا من شَعِير"، وكان لا يُخرج إلَّا التَّمر (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجا فيه: إلَّا التّمر.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجا فيه: إلَّا التّمر.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب صدقہ فطر فرض ہوا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود کھجوریں ہی دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اس حدیث میں صرف کھجور کا ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1506]
حدیث نمبر: 1507
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا جعفر بن محمد الثَّعْلبي، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن سَلَمةَ بن كُهَيل، عن القاسم بن مُخَيمِرة، عن أبي عمَّار الهَمْداني، عن قيس بن سعدٍ قال: أَمَرَنا رسول الله ﷺ بصَدَقةِ الفطر قبل أن تنزلَ الزكاة، فلمّا نزلت الزكاةُ لم يأمرنا ولم يَنْهَنا، ونحن نفعلُه (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کے احکام نازل ہونے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا تھا پھر جب زکوۃ کا حکم نازل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ فطر کا ہمیں نہ تو حکم دیتے تھے اور نہ ہی منع کرتے تھے لیکن ہم بہرحال صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ میں نے یہ حدیث ابوعمار کی حدیث کے مقابلے میں نقل کی ہے۔ کیونکہ ابوعمار کی حدیث سے اس کا استحباب ثابت ہوتا ہے جبکہ اس (مندرجہ ذیل) حدیث سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1507]
حدیث نمبر: 1508
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحجاج بن رِشْدين الفِهْري (1) بمصر، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن كَثِير بن فَرْقَد، عن نافع، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"زكاةُ الفِطْر فرضٌ على كلِّ مسلم حرٍّ وعبدٍ، ذكرٍ وأنثى من المسلمين، صاعٌ من تمرٍ أو صاعٌ من شعيرٍ" (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وإنما جعلتُه بإزاء حديث أبي عمّار، فإنه على الاستحباب، وهذا على الوجوب.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وإنما جعلتُه بإزاء حديث أبي عمّار، فإنه على الاستحباب، وهذا على الوجوب.
1508 - سیدنا ابن عمر (رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زکوٰۃ الفطر (فطرانہ) ہر مسلمان پر فرض ہے، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت ؛ (اس کی مقدار) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہے“۔ یہ حدیث شیخین (امام بخاری رحمہ اللہ و مسلم) کی شرائط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ اور میں نے اسے ابوعمار کی حدیث کے مقابلے میں اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ وہ (ابوعمار کی حدیث) مستحب ہونے پر محمول ہے، جبکہ یہ (حدیث) وجوب (فرض ہونے) پر دلالت کرتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1508]