🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. إِنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ حَقٌّ وَاجِبٌ
صدقۂ فطر ایک لازم اور واجب حق ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1509
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن علي الوَرَّاق - ولقبه حَمْدان - حدثنا داودُ بن شَبِيب، حدثنا يحيى بن عبَّاد - وكان من خيار الناس - حدثنا ابن جُرَيج، عن عطاء، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ أَمَر صارخًا ببطن مكةَ ينادي:"إنَّ صدقةَ الفِطْر حقٌّ واجبٌ على كلِّ مسلمٍ صغيرٍ أو كبيرٍ، ذكرٍ أو أنثى، حُرٍّ أو مملوك، حاضرٍ أو بادٍ، صاعٌ من شعيرٍ أو تمرٍ" (1) .
هذا حديثٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بلند بانگ شخص کو شہر مکہ میں اس بات کی منادی کرنے کا حکم دیا کہ ہر مسلمان پر ایک صاع کھجور یا جو، صدقہ فطر واجب ہے۔ خواہ وہ مسلمان چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، شہری ہو یا دیہاتی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1509]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1510
حدثني محمد بن يعقوب بن إسحاق القاضي، حدثني أبي، حدثنا أبو يوسف يعقوب بن إسحاق القُلُوسي، حدثنا بكر بن الأسود، حدثنا عبَّاد بن العوَّام، عن سفيان بن الحسين، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة: أنَّ النبيَّ ﷺ حَضَّ على صَدَقةِ رمضان، على كلِّ إنسانٍ صاعًا من تمرٍ، أو صاعًا من شَعيرٍ، أو صاعًا من قمح (1) .
هذا حديث صحيح. وله شاهدٌ صحيح:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ رمضان کی ترغیب دلائی (اور یوں فرمایا: صدقہ فطر) ہر انسان پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا ایک صاع گندم ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے اور ایک صحیح حدیث اس کی شاہد بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1510]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1511
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان بنُ الحَضرَمي، حدثنا زكريا بن يحيى بن صَبِيح. وأخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن الخَزّاز (1) ، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم التَّرْجُماني (2) ؛ قالا: حدثنا سعيد بن عبد الرحمن الجُمَحي، حدثنا عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسولَ الله ﷺ فَرَضَ زكاةَ الفِطر صاعًا من تمرٍ، أو صاعًا من بُرٍّ، على كلِّ حرٍّ أو عبدٍ، ذكرٍ أو أنثى، من المسلمين (3) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر آزاد، غلام، مرد، عورت، مسلمان پر ایک صاع کھجور یا گندم صدقہ فطر واجب کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1511]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1512
حدثنا أحمد بن إسحاق بن إبراهيم الصَّيدلانيُّ العدلُ إملاءً، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا أبو عبد الله أحمد بن حنبل، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيّة، عن محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن عبد الله بن عَدِيّ (1) بن حَكِيم بن حِزَام، عن عِياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سَرْح قال: قال أبو سعيد - وذُكِر عنده صدقةُ الفطر فقال -: لا أُخرجُ إلَّا ما كنت أُخرجُه على عهد رسول الله ﷺ: صاعًا من تمرٍ، أو صاعًا من حِنطةٍ، أو صاعًا من شعيرٍ، أو صاعًا من أَقِطٍ. فقال له رجلٌ من القوم: أو مُدَّين من قمح؟ فقال: لا، تلك قيمةُ معاوية، لا أَقبلُها ولا أعملُ بها (2) . هذه الأسانيدُ التي قدَّمتُ ذِكرَها في ذكر صاع البُرِّ كلُّها صحيحة (1) ، وأشهرها حديث أبي مَعْشَر عن نافع عن ابن عمر الذي عَلَونا فيه (2) ، لكني تركتُه إذ ليس من شرط الكتاب. وقد روي عن علي بن أبي طالب:
ایاز بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح بیان کرتے ہیں کہ ابوسعید کے پاس صدقہ فطر کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا: میں تو وہی صدقہ دوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع گندم یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر دیا جاتا تھا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: یا دو مد گندم کے؟ تو انہوں نے فرمایا: جی نہیں۔ یہ معاویہ کی مقرر کردہ قیمت ہے۔ نہ میں اس کو قبول کرتا ہوں اور نہ ہی اس پر عمل کرتا ہوں۔ ٭٭ یہ اسانید جن کا تذکرہ میں نے صاع البر کے ضمن میں کیا ہے، سب صحیح ہیں اور ان سب میں سے مشہور نافع کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کردہ وہ حدیث ہے جس کے لیے ہماری سند عالی ہے لیکن میں نے اس کو ترک کر دیا ہے کیونکہ وہ اس کتاب کے معیار کی نہیں ہے۔ اور یہی حدیث سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1512]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1513
حدَّثَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا الحسن بن الصَّبّاح، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن الحارث، عن عليِّ بن أبي طالب، عن النبي ﷺ: أنه قال في صدقة الفِطر:"عن كلِّ صغيرٍ وكبيرٍ، حُرٍّ أو عبدٍ، صاعٌ من بُرٍّ، أو صاعٌ من تمر" (1) . هكذا أسنَدَه عن علي، ووَقَفه غيره:
سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ہر بچے، بڑے، آزاد، اور غلام کی طرف سے ایک صاع گندم یا ایک صاع کھجوریں مقرر فرمایا ہے۔ ٭٭ ابوبکر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ اسناد مسند کی ہے جب کہ آپ کے علاوہ (عقیل بن خالد) نے اس کو موقوف کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل حدیث میں ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1513]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1514
أخبرني أبو الحسن محمد بن عبد الله العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عُزَيز الأَيْلي، حدثنا سلامة بن رَوْح، عن عُقَيل بن خالد، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن الحارث: أنه سَمِع علي بن أبي طالب يأمرُ بزكاة الفِطر فيقول: صاعٌ من تمرٍ، أو صاعٌ من شعيرٍ، أو صاعٌ من حِنْطةٍ أو سُلْتٍ أو زَبِيب (1) . وقد روي أيضًا بإسناد يُخرَّج مثلُه في الشواهد عن زيد بن ثابت عن النبي ﷺ:
سیدنا عقیل بن خالد نے ابواسحاق ہمدانی کے واسطے سے حارث کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو زکوۃ فطر کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا ایک صاع گندم یا پنیر یا خشک انگور۔ ٭٭ ایک دوسری سند کے ہمراہ زید بن ثابت کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان منقول ہے اور اس طرح کی اسناد شواہد میں ذکر کی جاتی ہیں۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1514]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1515
حدَّثَناه أبو الوليد الفقيه، حدثنا محمد بن نُعَيم، حدثنا عبَّاد بن الوليد الغُبَري، حدثنا عبّاد بن زكريا، حدثنا سليمان بن أرقَم، عن الزُّهري، عن قَبِيصةَ بن ذُؤيب، عن زيد بن ثابت قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ فقال:"مَن كان عندَه طعامٌ فليتصدَّقْ بصاعٍ من بُرٍّ، أو صاعٍ من شعيرٍ، أو صاعٍ من تمرٍ، أو صاعٍ من دقيقٍ، أو صاعٍ من زَبيب، أو صاعٍ من سُلْت" (1) .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس شخص کے پاس طعام ہو، اس کو چاہیے کہ ایک صاع گندم یا ایک صاع جو یا ایک صاع آٹا یا ایک صاع منقع یا ایک صاع پنیر صدقہ دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1515]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1516
أخبرني أبو نصر محمد بن محمد بن حامد التِّرمذي، حدثنا محمد بن حِبَال الصَّغاني (2) ، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن عُقَيل، عن هشام بن عُرْوة بن الزُّبير، عن أبيه، عن أمه أسماء بنت أبي بكر، أنها حدَّثته: أنهم كانوا يُخرِجون زكاة الفطر في عهد رسول الله ﷺ بالمُدِّ الذي يَقتاتُ به أهلُ البيت، أو الصاعِ الذي يَقتاتُون به، يَفعلُ ذلك أهلُ المدينة كلُّهم (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وهي الحُجَّة لمناظرة مالك وأبي يوسف.
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ جس چیز کو گھر میں بطورِ خوراک استعمال کرتے تھے اسی کا مُد یا صاع صدقہ دیا کرتے تھے۔ اور تمام اہلِ مدینہ کا یہی طریقہ کار تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور یہ حدیث امام مالک اور امام ابویوسف کے مناظرہ کی دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1516]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں