المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ تَعَالَى وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يَبْغَضُهُمْ
تین لوگ جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور تین جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1534
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون ووَهْب بن جرير: قالا: حدثنا شُعْبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، قال: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن منصور، عن رِبْعِيّ بن حِرَاش، عن زيد بن ظَبْيان، عن أبي ذرٍّ، عن النبي ﷺ قال:"ثلاثةٌ يحبُّهم الله، وثلاثةٌ يُبغِضُهم الله، أما الذين يحبُّهم الله: فرجلٌ أَتى قومًا فسألهم بالله ولم يسألهم بقرابةٍ بينهم وبينه، فتخلَّفَ رجلٌ من أعقابهم، فأعطاه سرًّا لا يَعلمُ بعطيَّتِه إِلَّا اللهُ والذي أعطاه، وقومٌ ساروا ليلتَهم حتى إذا كان النومُ [أحبَّ إليهم مما يُعدَل به] (1) نزلوا فوَضَعُوا رؤوسَهم، فقام رجلٌ (2) يتملَّقُني ويَتلُو آياتي، ورجلٌ كان في سَريَّةٍ فلقي العدوَّ فهُزِموا، فأقبل بصَدْره حتى يُقتَلَ أو يُفتَحَ له، والثلاثةُ الذين يُبغِضُهم الله: الشَّيخ الزاني، والفقير المُخْتال، والغنيُّ الظَّلوم" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین شخص ایسے ہیں: جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور تین شخص ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے جن تین سے اللہ محبت کرتا ہے (وہ یہ ہیں): (1) ایسا شخص جو اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے اللہ کے نام پر سوال کیا اور اس نے رشتہ داری کی بناء پر سوال نہیں کیا جو اس کے اور قوم کے درمیان موجود تھی، تو ایک شخص الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گیا اور اس شخص کو اس طرح خفیۃً عطیہ دیا کہ کسی دوسرے آدمی کو پتا بھی نہیں چلنے دیا۔ (2) ایسی قوم جو رات بھر سفر کرتی رہی اور جب ان کو نیند کا شدید غلبہ ہوا تو ایک جگہ پر پڑاؤ ڈال کر سو گئے۔ تو ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر ان پر پہرا دیتا رہا اور میری آیات کی تلاوت کرتا رہا۔ (3) ایسا شخص جو کسی جنگ میں ہو اور دشمن سے مڈبھیڑ ہو جائے اور وہ شکست دے دیں لیکن یہ اپنے قتل ہونے تک یا فتح ہونے تک سینہ تان کر لڑتا رہے۔ اور جن تینوں کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ یہ ہیں: (1) بوڑھا زانی۔ (2) متکبر فقیر۔ (3) ظالم مالدار۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1534]
حدیث نمبر: 1535
أخبرنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا محمد بن سعيد الأصبهاني، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن ابن بُرَيدةَ، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"ما يَخْرُجُ رجلٌ بشيءٍ من الصدقةِ حتى يَفُكَّ عنها لَحْيَيْ سبعينَ شيطانًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی جو چیز بھی صدقہ کرتا ہے وہ اس کو شیطانوں کے 70 قبیلوں سے بچاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1535]
حدیث نمبر: 1536
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا عبيد بن شَرِيك البزّار والفَضْل بن محمد بن المسيَّب، قالا: حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عُبيد الله بن عمر وعَبْد الله بن عمر (2) ، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ أَمَرَ مِن كل حائطٍ بقِنْوٍ للمسجد (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه صحيح على شرط مسلم:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه صحيح على شرط مسلم:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر باغ سے مسجد کے لیے (ایک گچھہ حصہ بھیجنے کا) حکم دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ (شاہد حدیث درجِ ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1536]
حدیث نمبر: 1537
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العدلُ، حدثنا العباس بن الفضل ومحمد بن أيوب، قالا: حدثنا سَهْل بن بَكَّار، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق، عن محمد بن يحيى بن حَبَّان، عن عمِّه واسع بن حَبَّان، عن جابر بن عبد الله: أنَّ رسول الله ﷺ رَخَّص في العَرايا الوَسْقَ والوَسْقين والثلاثةَ والأربعة، وقال:"في جادِّ كلِّ عشرة أوسُقٍ قِنوٌ يُوضَع للمساكينِ في المسجد" (1) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے ایک وسق، دو وسق، تین اور چار میں رخصت عطا فرمائی ہے اور کٹی ہوئی کھجوروں میں ہر دس میں ایک وسق، اسی کی قسم سے مسکینوں کے لیے مسجد میں رکھا جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1537]