🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. جَوَازُ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ
روزہ دار کے لیے بوسہ لینے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1588
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم وإبراهيم بن نصر الرّازيّان، قالا: حدثنا أبو الوليد الطيالسي، حدثنا الليث بن سعد، عن بُكَير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن عبد الملك بن سعيد بن سُوَيد الأنصاري، عن جابر بن عبد الله، عن عمر بن الخطاب أنه قال: هَشِشْتُ يومًا فقبَّلتُ وأنا صائم، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلت: صَنعتُ اليوم أمرًا عظيمًا فقبلتُ وأنا صائم، فقال رسول الله ﷺ:"أرأيتَ لو تَمَضْمَضْتَ ماءً وأنت صائمٌ؟" قال: فقلت: لا بأسَ بذلك، فقال رسول الله ﷺ:"ففيمَ؟" (1) . حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ایک دن میں جوشِ محبت میں آ گیا اور روزے کی حالت میں (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لے لیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: آج میں نے ایک سنگین غلطی کر دی ہے کہ روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم روزے کی حالت میں (وضو کرتے ہوئے) پانی سے کلی کرو (تو کیا اس سے روزہ ٹوٹے گا)؟ میں نے عرض کیا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس (بوسے) پر کیسا خوف؟
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1588]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، إلَّا أنَّ الإمام أحمد قد ضعفه وقال: هذا ريح، ليس من هذا شيء، فيما نقله عنه ابن قدامة في "المغني" 4/ 361، وابن عبد الهادي في "التنقيح" 3/ 235، وقال النسائي: حديث منكر، وأخرجه ابن حبان (3544) عن الفضل بن الحباب الجمحي، عن أبي الوليد هشام بن عبد ...» [ترقيم الرساله 1588] [ترقيم الشركة 1577]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں