🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. باب الصَّدَقَةُ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ
باب: ذمی کو صدقہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1668
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ أَفَأَصِلُهَا، قَالَ:" نَعَمْ فَصِلِي أُمَّكِ".
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس میری ماں آئیں جو قریش کے دین کی طرف مائل اور اسلام سے بیزار اور مشرکہ تھیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ اسلام سے بیزار اور مشرکہ ہیں، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1668]
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ قریش کے ساتھ معاہدۂ حدیبیہ کے دنوں میں میری والدہ میرے پاس (مدینے میں) آئیں جب کہ وہ (اسلام کو) ناپسند کرتی تھیں اور مشرکہ تھیں۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری والدہ میرے ہاں آئی ہیں اور (اسلام کو) ناپسند کرتی ہیں اور مشرکہ ہیں۔ کیا میں ان کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کا معاملہ کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الھبة 29 (2620)، والجزیة 18 (3183)، والأدب 8 (5978)، صحیح مسلم/الزکاة 14 (1003)، (تحفة الأشراف: 15724)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/344، 347، 355) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2620) صحيح مسلم (1003)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں