🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

78. فَضِيلَةُ الْعُمْرَةِ فِي رَمَضَانَ
رمضان میں عمرہ کرنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1799
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الوارث بن سعيد العَنْبَري، عن عامرٍ الأحول، عن بكر بن عبد الله المُزَني، عن ابن عباس قال: أرادَ رسولُ الله ﷺ الحجَّ، فقالت امرأةٌ لزوجها: حُجَّ بي مع رسول الله ﷺ، فقال: ما عندي ما أُحِجُّكِ عليه، قالت: فحُجَّ بي على ناضِحِك، فقال: ذاك نَعتَقِبُه أنا وولدُك، قالت: فحُجَّ بي على جَمَلِك فلان، قال: ذلك حَبِيسٌ في سبيل الله، قالت: فبِعْ ثَمَرَ رَفِّكَ (1) ، قال: ذاك قُوْتِي وقُوتُكِ، قال: فلما رَجَعَ النبيُّ ﷺ من مكة، أرسلَتْ إليه زوجَها، فقالت: أَقرئْ رسولَ الله ﷺ منِّي السلام وسَلْه: ما يَعدِلُ حَجَّةً معك؟ فأتى زوجُها النبيَّ ﷺ فقال: يا رسولَ الله، إِنَّ امرأتي تُقرِئُك السلامَ ورحمةَ الله، وإنها سألَتني أن أحُجَّ بها معك، فقلتُ لها: ليس عندي، قالت: فحُجَّ بي على جملك فلان، فقلت لها: ذلك حَبِيسٌ في سبيل الله، قال النبيُّ ﷺ:"أمَا إِنَّكَ لو كنتَ حَجَجْتَ بها، كان في سبيل الله"، قال: فَضَحِكَ رسول الله ﷺ تعجُّبًا من حِرْصِها على الحج، قال: وإنها أمرَتْني أن أسألك: ما يَعدِلُ حَجَّةً معك؟ قال:"أقرِئْها منِّي السلامَ ورحمةَ الله، وأخبِرْها أنها تَعدِلُ حَجّةً معي عُمرةٌ في رمضان" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شعبان سنة ستٍّ وتسعين:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا تو ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہا: کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کراؤ، اس نے کہا: میرے پاس ایسی کوئی سواری نہیں ہے جس پر میں تمہیں حج کرواؤں، اس نے کہا: تو پھر مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کروا دیں، اس نے جواب دیا: اس کو میں نے راہِ خدا کے لیے روک رکھا ہے، اس نے کہا: تو اپنی کھجوریں بیچ دیں، اس نے کہا: وہ میرے اور تیرے کھانے کے لیے ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے لوٹ کر آئے، تو اس خاتون نے اپنے شوہر کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور آپ سے پوچھنا کہ کوئی ایسا عمل بتا دیں جس کا ثواب آپ کے ہمراہ حج کرنے کے برابر ہو۔ اس کا شوہر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بیوی نے آپ کو سلام بھیجا ہے، اس نے مجھے کہا تھا کہ میں اس کو آپ کے ہمراہ حج پر بھیجوں۔ میں نے اس کو جواب دیا کہ میرے پاس گنجائش نہیں ہے۔ اس نے کہا: کہ پھر اپنے اونٹ پر مجھے حج کرا دو، میں نے اس سے کہا: اس کو میں نے فی سبیل اللہ روک رکھا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس کو حج کروا دیتا تو یہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہوتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس خاتون کے حج کے بارے میں حرص پر متعجب ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے۔ اس شخص نے مزید کہا: میری بیوی نے مجھے یہ بھی کہہ کر بھیجا ہے کہ میں آپ سے کوئی ایسا عمل پوچھ کر آؤں جس کا ثواب آپ کے ہمراہ حج کرنے کے برابر ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری طرف سے بھی اس کو سلام کہنا اور اس کو بتانا کہ میرے ہمراہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1799]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1800
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن عَلْقَمة بن أبي عَلْقَمة، عن أمِّه، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ أمَرَ الناسَ عامَ حجَّةِ الوداع، فقال:"مَن أحبَّ أن يَرجِعَ بعُمرةٍ قبل الحجِّ فلْيَفعَلْ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے سال لوگوں کو حکم دیا: اور فرمایا: جو شخص حج سے پہلے صرف عمرہ کر کے لوٹنا چاہے اس کو اجازت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1800]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں