المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
79. اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجِّهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَلَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا
رسولُ اللہ ﷺ نے اپنے حج سے پہلے دو یا تین عمرے کیے، اور اس کے سوا کوئی حج نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 1801
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النَّحْوي ببغداد، حدثنا الحسن بن سلَّام، حدثنا أبو بكر عُبيد الله (1) بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا عبد الله بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ سَعَى ثلاثةَ أطوافٍ ومشى أربعةً حين قَدِمَ بالحج والعمرة حين كان اعتَمَر. وقال ابن عمر: اعتَمَرَ رسول الله ﷺ قبل حجَّتِه مرتين أو ثلاثًا ولم يحجَّ غيرها، إحدى عُمرتَيهِ في رمضان (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حج اور عمرہ کے لیے آئے تو عمرہ کے لیے تین طواف دوڑ کر اور چار چل کر کیے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک حج کیا اور اس سے پہلے دو یا تین عمرے کیے، جن میں سے ایک عمرہ رمضان المبارک میں کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1801]
حدیث نمبر: 1802
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا محمد بن عمرو، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عائشةَ قالت: خرَجْنا مع رسولِ الله ﷺ على أنواعٍ ثلاثٍ، فمنَّا مَن أهلَّ بحَجّةٍ وعُمرة، ومنّا من أهلَّ بحجٍّ مفرَد، ومنّا من أهلَّ بعُمرة، فمَن كان أهلَّ بحجٍّ وعمرةٍ فلم يَحِلَّ من شيءٍ مما حَرُمَ عليه حتى قضى مناسكَ الحج، ومن أهلَّ بحجٍّ مفرَد لم يَحِلَّ من شيءٍ حتى يقضيَ مناسكَ الحجّ، ومَن أهلَّ بعُمرةٍ فطاف بالبيت وبالصّفا والمَرْوةِ حلَّ ثم استَقبَل الحجَّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کے لیے نکلے تو ہم میں تین طرح کے لوگ تھے، کچھ ایسے تھے جنہوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا اور کچھ نے صرف عمرہ کی نیت کی، چنانچہ جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا تھا، وہ مناسک حج کی ادائیگی تک مسلسل احرام کی پابندیوں میں رہے اور جنہوں نے حج مفرد کی نیت کی تھی وہ بھی مناسک حج کی ادائیگی تک مسلسل احرام میں رہے اور جن لوگوں نے صرف عمرے کی نیت کی تھی، انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ میں سعی کر کے احرام ختم کر دیا پھر حج کی طرف متوجہ ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1802]