🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

99. الِاسْتِغْفَارُ عِنْدَ الْقِيَامِ مِنَ الْمَجْلِسِ
مجلس سے اٹھتے وقت استغفار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1990
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجّاج بن محمد، قال: قال ابنُ جُريج: أخبَرني موسى بن عُقبة، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ما جَلَسَ قومٌ مجلِسًا كَثُر لَغَطُهم فيه، فقال قائلٌ قبل أن يقوم: سبحانَك ربَّنا (1) وبحمدِك، لا إله إلَّا أنت، أستغفِرُك ثم أتوبُ إليك، إِلَّا غُفِرَ له ما كان في مَجلسِه" (2) هذا الإسنادُ صحيحٌ على شرط مسلم، إلَّا أنَّ البخاري قد علَّله بحديث وُهَيب، عن موسى بن عُقْبة، عن سُهيل، عن أبيه، عن كعب الأحبار (1) من قوله، فالله أعلم. ولهذا الحديث شواهدُ عن جُبير بن مُطعِم، وأبي بَرْزة الأسلمي، ورافع بن خَديج: أما حديثُ جُبير بن مطعِم:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ کسی ایسی مجلس میں بیٹھے جس میں بے ہودہ باتیں زیادہ ہوئیں، پھر وہاں سے اٹھنے سے پہلے کسی کہنے والے نے یہ کلمات کہے: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ ثُمَّ أَتُوبُ إِلَيْكَ» اے ہمارے رب! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں تو اس کے اس مجلس میں ہونے والے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
یہ اسناد امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، البتہ امام بخاری نے وہیب کی روایت کی وجہ سے اسے معلل قرار دیا ہے جو اسے کعب احبار کا قول قرار دیتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1990]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن رواه وُهَيب بن خالد عن سُهيل بن أبي صالح عن عون بن عبد الله بن عُتبة مقطوعًا من قوله. وبذلك أعلَّ أحمدُ بن حنبل والبخاريُّ وأبو زرعة وأبو حاتم والدارقطني وغيرهم رواية موسى بن عقبة الموصولة المرفوعة برواية وُهيب المقطوعة، وقد ...» [ترقيم الرساله 1990] [ترقيم الشركة 1975]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1991
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُويسي وأحمد بن الحسين اللَّهَبي، قالا: حدثنا داود بن قيس الفَرّاء، عن نافع بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن قال: سبحانَ الله وبحمْدِه، سبحانَك اللهمَّ وبحمْدِك، أشهدُ أن لا إله إلَّا أنتَ، أستغفِرُك وأتوبُ إليك، فقالها في مجلسِ ذكرٍ، كانت كالطابَع يُطبَعُ عليه، ومن قالها في مجلسِ لغوٍ، كانت كفّارةً له" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وأما حديث أبي بَرْزة الأسلَمي:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ کلمات کہے: «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں، پس اگر اس نے یہ کلمات کسی ذکر کی مجلس میں کہے تو یہ اس مجلس کی نیکیوں پر مہر (محافظ) ثابت ہوں گے، اور اگر کسی لغو یا فضول باتوں والی مجلس میں کہے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1991]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكنه اختُلف في وصله وإرساله، كما أوضحه الحافظُ في "النَّكت على ابن الصلاح" 2/ 734» [ترقيم الرساله 1991] [ترقيم الشركة 1976]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں