🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

101. دُعَاءُ قَضَاءِ الدَّيْنِ
قرض ادا ہونے کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1994
أخبرنا إبراهيم بن عِصمة بن إبراهيم، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق القُرشي، عن سَيَّار أبي الحَكَم، عن أبي وائل، قال: جاء رجلٌ إلى عليٍّ، فقال: أعِنِّي في مُكاتَبتَي، فقال: ألا أُعلِّمُك كلماتٍ عَلَّمَنيهنَّ رسولُ الله ﷺ، لو كان عليكَ مثلُ جبلِ صِيرٍ (1) دَينًا لأدّاهُ اللهُ عنك؟ قل: اللهمَّ اكفِني بحَلالِك عن حَرامِك، وأغنِني بفَضْلِكَ عَمَّن سِواك (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مکاتب غلام (جس نے اپنی آزادی کے لیے رقم کی ادائیگی کا معاہدہ کیا ہو) ان کے پاس آیا اور عرض کیا: میری ادائیگی میں میری مدد فرمائیں، انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھاؤں جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے تھے، اگر تم پر صیر پہاڑ جتنا بھی قرض ہوا تو اللہ اسے تمہاری طرف سے ادا کر دے گا؟ تم یہ کہو: «اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَنْتَ أَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ» اے اللہ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے بچا کر کافی ہو جا، اور مجھے اپنے فضل و کرم سے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کر دے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1994]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1994] [ترقيم الشركة 1979]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں