🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. إِنَّ اللَّهَ لَا يُنَالُ فَضْلُهُ بِمَعْصِيَةٍ
اللہ کا فضل نافرمانی کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2165
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا ابن بُكير (3) ، حدَّثني الليث بن سعد، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن سعيد بن أبي أُميّة الثقفي، عن يونس بن كَثير (4) ، عن ابن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ليس من عَمَلٍ يُقرِّب إلى الجنة إلّا قد أمرتُكم به، ولا عَمَلٍ يُقرِّب إلى النار إلّا قد نهيتُكم عنه، فلا يَستبطئنَّ أحدٌ منكم رزقَه، إنَّ جبريل ﵇ ألقَى في رُوعِي أنَّ أحدًا منكم لن يَخرُجَ من الدنيا حتى يَستكمِلَ رزقَه، فاتقُوا اللهَ أيها الناسُ وأَجمِلُوا في الطَّلَبِ، فإن استبطأَ أحدٌ منكم رزقَه فلا يطلُبْه بمعصيةٍ، فإنَّ الله لا يُنالُ فضلُه بمعصيةٍ" (1) .
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایسا عمل نہیں جو تمہیں جنت کے قریب کرتا ہو مگر میں نے تمہیں اس کا حکم دے دیا ہے، اور کوئی ایسا عمل نہیں جو تمہیں جہنم کے قریب لے جاتا ہو مگر میں نے تمہیں اس سے روک دیا ہے، پس تم میں سے کوئی بھی اپنے رزق کو دیر سے آتا ہوا محسوس نہ کرے، کیونکہ جبرائیل علیہ السلام نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس دنیا سے اس وقت تک رخصت نہیں ہوگا جب تک وہ اپنا رزق مکمل نہ کر لے، پس اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور طلبِ رزق میں اعتدال اور عمدہ طریقہ اپناؤ، اور اگر کسی کو اپنا رزق دیر سے آتا ہوا محسوس ہو تو وہ اسے اللہ کی نافرمانی کے ذریعے ہرگز طلب نہ کرے، کیونکہ اللہ کا فضل اس کی نافرمانی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2165]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كلٍّ من يونس بن كثير وسعيد بن أبي أمية الثقفي، لكنهما متابَعان، وليس هذا الثاني بسعيد بن أبي أمية بن عمرو بن سعيد بن العاص الذي ذكره ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل"، كما ظنه بعض المعاصرين، فذاك أُمويّ، وصاحب يونس بن كثير ثقفيّ، ...» [ترقيم الرساله 2165] [ترقيم الشركة 2146]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2166
حدثنا أبو زكريا العَنْبَري وعلي بن عيسى وأبو بكر بن جعفر، قالوا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا عبيد الله بن معاذ بن معاذ، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن حَنَش بن قيس الرَّحَبي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يُغبَطنَّ جامعُ المالِ من غير حِلِّه - أو قال: من غير حقِّه - فإنه إن تَصدَّق لم يُقبَلْ منه، وما بقي كان زادَه إلى النار" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناجائز طریقے سے مال جمع کرنے والے پر رشک نہ کیا جائے، کیونکہ اگر وہ اسے صدقہ کرے گا تو وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، اور جو کچھ اس کے پاس باقی رہ جائے گا وہ اس کے لیے جہنم کا توشہ ہوگا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2166]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل حَنَش بن قيس الرحبي» [ترقيم الرساله 2166] [ترقيم الشركة 2147]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں