المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. إِنَّ اللَّهَ لَا يُنَالُ فَضْلُهُ بِمَعْصِيَةٍ
اللہ کا فضل نافرمانی کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
حدیث نمبر: 2165
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا ابن بُكير (3) ، حدَّثني الليث بن سعد، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن سعيد بن أبي أُميّة الثقفي، عن يونس بن كَثير (4) ، عن ابن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ليس من عَمَلٍ يُقرِّب إلى الجنة إلّا قد أمرتُكم به، ولا عَمَلٍ يُقرِّب إلى النار إلّا قد نهيتُكم عنه، فلا يَستبطئنَّ أحدٌ منكم رزقَه، إنَّ جبريل ﵇ ألقَى في رُوعِي أنَّ أحدًا منكم لن يَخرُجَ من الدنيا حتى يَستكمِلَ رزقَه، فاتقُوا اللهَ أيها الناسُ وأَجمِلُوا في الطَّلَبِ، فإن استبطأَ أحدٌ منكم رزقَه فلا يطلُبْه بمعصيةٍ، فإنَّ الله لا يُنالُ فضلُه بمعصيةٍ" (1) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ہر اس عمل کا تمہیں حکم کر دیا ہے جو جنت کے قریب کرنے والا اور ہر اس عمل سے منع کیا ہے جو تمہیں دوزخ کے قریب کرتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص اپنا رزق آہستہ آہستہ حاصل نہ کرے۔ بے شک سیدنا جبریل امین علیہ السلام نے میرے دل میں یہ بات القا کی ہے کہ ” تم میں سے کوئی شخص اپنا پورا رزق وصول کیے بغیر دنیا سے رخصت نہیں ہو گا “ اس لیے اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور طلب میں میانہ روی اختیار کرو۔ اگر کوئی اپنا رزق وصول کرنے میں تاخیر کرے گا تو یقیناً وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ساتھ طلب کرے گا اور (یاد رکھیے!) اللہ تعالیٰ گناہ کے عوض اپنا فضل عطا نہیں کرتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2165]
حدیث نمبر: 2166
حدثنا أبو زكريا العَنْبَري وعلي بن عيسى وأبو بكر بن جعفر، قالوا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا عبيد الله بن معاذ بن معاذ، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن حَنَش بن قيس الرَّحَبي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يُغبَطنَّ جامعُ المالِ من غير حِلِّه - أو قال: من غير حقِّه - فإنه إن تَصدَّق لم يُقبَلْ منه، وما بقي كان زادَه إلى النار" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حرام مال جمع کرنے والے پر رشک مت کرو یا (شاید یہ فرمایا کہ) ناحق مال جمع کرنے والے پر (رشک مت کرو) اس لیے کہ اگر وہ اس مال کو صدقہ کرے تو قبول نہیں ہے اور جو باقی رہے گا وہ اس کے لیے جہنم کا باعث ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2166]