المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
55. تُرْفَعُ لِلرَّجُلِ صَحِيفَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يَرَى أَنَّهُ نَاجٍ فَمَا تَزَالُ مَظَالِمُ بَنِي آدَمَ تَتْبَعُهُ حَتَّى مَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ
قیامت کے دن آدمی کا نامۂ اعمال بلند کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ خود کو نجات یافتہ سمجھے گا، پھر بندوں کے حقوق اس کے پیچھے پڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہ رہے گی۔
حدیث نمبر: 2299
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أبو بكر محمد بن إسحاق وأبو العباس محمد بن إسحاق وأبو يحيى زكريا بن يحيى البزَّاز، قالوا: حدثنا إسحاق بن منصور، حدثنا أبو داود، حدثنا شُعبة، عن خالد الحذّاء، قال: سمعت أبا عثمان النَّهْدي يحدِّث، أنَّ النبي ﷺ قال:"يُرفع للرجُلِ صحيفةٌ يومَ القيامة حتَّى يُرى أنه ناجٍ، فما تزالُ مظالمُ بني آدم تَتْبعُه حتى ما تبقى له حسنةٌ، ويُزادُ عليه مِن سيّئاتهم". قال: فقلتُ له - أو قال له عاصمٌ -: عمَّن يا أبا عثمان؟ قال: عن سلمانَ وسعدٍ وابن مسعود ورجلين آخرَين لم يحفظهما. قال شعبة: فسألت عاصمًا عن هذا الحديث، فحدَّثَنيهِ عن أبي عثمان عن سلمان. وأخبرني عثمان بن غِياثٍ: أنه سمع أبا عثمان يحدِّث بهذا عن سلمان وأصحابِ رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث غريبٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولا أعرفُ لشعبة عن عثمان بن غِياث حديثًا مسنَدًا غيرَ هذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2268 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث غريبٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولا أعرفُ لشعبة عن عثمان بن غِياث حديثًا مسنَدًا غيرَ هذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2268 - على شرط البخاري ومسلم
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کسی شخص کا نامہ اعمال اس کے سامنے بلند کیا جائے گا یہاں تک کہ اسے نظر آئے گا کہ وہ نجات پا چکا ہے، لیکن پھر اولادِ آدم کے حقوق اور ان پر کیے گئے مظالم اس کے پیچھے آئیں گے یہاں تک کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور دوسروں کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: یہ کن سے مروی ہے؟ تو انہوں نے سیدنا سلمان، سیدنا سعد اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم کا حوالہ دیا۔
یہ حدیث غریب اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2299]
یہ حدیث غریب اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2299]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، ولشعبة فيه ثلاثة شيوخ: خالد بن مِهران الحذّاء، وعاصم بن سليمان الأحول، وعثمان بن غياث، وسيأتي عند المصنف من طريق أبي داود أيضًا - وهو سليمان بن داود الطيالسي - برقم (8929)، وقد خولف شعبةُ في رفعه.» [ترقيم الرساله 2299] [ترقيم الشركة 2281] [ترقيم العلميه 2268]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح