المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
57. نَهَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ، حَتَّى يَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ
رسولُ اللہ ﷺ نے سامان کو خرید کی جگہ ہی بیچنے سے منع فرمایا جب تک تاجر اسے اپنے ٹھکانوں تک منتقل نہ کر لیں۔
حدیث نمبر: 2302
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن أبي الزِّناد، عن عُبيد بن حُنين، عن ابن عمر، قال: ابتعتُ زيتًا في السوق، فلما استَوجبْتُه لَقِيَني رجلٌ، فأعطاني به ربحًا حسنًا، فأردت أن أضربَ على يديه، فأخذ رجلٌ من خَلْفي بذِراعي، فالتفتُّ إليه، فإذا زيدُ بن ثابت، فقال: لا تَبِعْه حيث ابتعْتَه حتى تَحُوزَه إلى رَحْلِك، فإنَّ رسول الله ﷺ نهى أن تُباعَ السِّلَعُ حيث تُبتاع، حتى يَحُوزَها التجّار إلى رِحالهم (1) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے بازار میں زیتون کا تیل خریدا، جب سودا پکا ہو گیا تو مجھے ایک آدمی ملا جس نے مجھے اس پر بہت اچھا نفع پیش کیا، میں نے چاہا کہ اسی وقت اس سے معاملہ کر لوں تو پیچھے سے ایک شخص نے میرا بازو پکڑ لیا، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: ”تم اسے اسی جگہ نہ بیچو جہاں سے خریدا ہے جب تک کہ اسے اپنے گھر یا ٹھکانے پر نہ لے جاؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان کو اسی جگہ بیچنے سے منع فرمایا ہے جہاں سے وہ خریدا گیا ہو، یہاں تک کہ تاجر اسے اپنے ٹھکانوں پر منتقل کر لیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2302]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وقد صرَّح ابن إسحاق بسماعه عند أحمد وغيره، وهو متابع. أبو الزِّناد: هو عبد الله بن ذكوان، وأخرجه أبو داود (3499) عن محمد بن عوف الطائي، عن أحمد بن خالد الوهبي، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2302] [ترقيم الشركة 2284]
الحكم على الحديث: حديث صحيح