المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
62. النَّهْيُ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ
نر جانور کے ملاپ کی اجرت لینے سے ممانعت ہے۔
حدیث نمبر: 2312
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، عن علي بن الحَكَم، عن نافع، عن ابن عمر، قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن عَسْبِ (3) الفَحْلِ (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وعلي بن الحكم البُنَاني ثقة مأمون من أعزِّ البصريين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2281 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وعلي بن الحكم البُنَاني ثقة مأمون من أعزِّ البصريين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2281 - على شرط البخاري
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر جانور (جفتی کے لیے) کرایہ پر دینے سے منع کیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور علی بن حکم بنانی ثقہ ہیں، مامون ہیں اور ان کا شمار مصر کے معززین میں ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2312]
حدیث نمبر: 2313
حدثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرم، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا حَيّان بن عُبيد الله العَدَوي، قال: سألت أبا مِجلَزٍ عن الصَّرْف، فقال: كان ابنُ عباس لا يرى به بأسًا زمانًا من عمره ما كان منه عَينًا - يعني يدًا بيد - وكان يقول: إنما الربا في النَّسيئة، فلَقِيَه - أبو سعيد الخُدْري، فقال له: يا ابن عباس، ألا تتَّقي اللهَ، إلى متى تُوكِل الناسَ الربا؟! أمَا بَلَغَك أنَّ رسول الله ﷺ قال ذات يوم وهو عند زوجته أم سَلَمة:"إني لأشتَهي تمرَ عَجْوةٍ"، فبعثَتْ صاعَين من تمرٍ إلى رجلٍ من الأنصار، فجاءت بدلَ صاعَينِ صاعًا من تمرِ عَجْوةٍ، فقامت فقدَّمتْه إلى رسول الله ﷺ، فلما رآهُ أعجبَه، فتناولَ تمرةً ثم أمسَكَ، فقال:"من أين لكم هذا؟" فقالت أم سَلَمة: بعثتُ صاعَين من تمرٍ إلى رجل من الأنصار، فأتانا بدلَ صاعَين هذا الصاعُ الواحدُ، وها هو، كُلْ، فألقى التمر من بين يديه، قال:"رُدُّوه، لا حاجةَ لي فيه: التمرُ بالتمرِ، والحنطةُ بالحنطةِ، والشعيرُ بالشعيرِ، والذهبُ بالذهبِ، والفضةُ بالفضةِ، يدًا بيد، عينًا بعين، مِثلًا بمِثل، فمن زاد فهو رِبًا". ثم قال:"كذلك ما يُكال أو يُوزن أيضًا". فقال ابن عباس: جزاك الله يا أبا سعيدٍ الجنةَ، فإنك ذكَّرتني أمرًا كنت نُسِّيتُه، أستغفرُ اللهَ وأتوبُ إليه. فكان ينهى عنه بعد ذلك أشدَّ النَّهْي (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2282 - حبان بن عبيد الله العدوي فيه ضعف وليس بالحجة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2282 - حبان بن عبيد الله العدوي فيه ضعف وليس بالحجة
سیدنا حبان بن عبیداللہ عددی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: میں نے ابومجلز سے بیع صرف کے متعلق مسئلہ پوچھا: تو انہوں نے جواباً کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک زمانے تک یہ موقف رہا ہے کہ اگر ہاتھوں ہاتھ ہوں تو کوئی حرج نہیں، وہ کہا کرتے تھے کہ سود تو صرف ادھار میں ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما تم اللہ سے نہیں ڈرتے ہو تم لوگوں کو کب تک سود میں مبتلا کیے رکھو گے؟ کیا تمہیں اس حدیث کی اطلاع نہیں ہے؟ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجور کھانے کی خواہش کا اظہار کیا، تو انہوں نے دو صاع کھجوریں ایک انصاری کے پاس بھیجیں تو وہ دو صاع کھجوروں کے بدلے ایک صاع عجوہ کھجوریں دے گیا۔ پھر ام المومنین رضی اللہ عنہا نے یہ کھجوریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو دیکھا تو بہت پسند کیا اور ان میں سے ایک کھجور اٹھا کر کھا لی اور پھر رُک گئے اور پوچھا: یہ کھجوریں تمہارے پاس کہاں سے آئیں؟ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نے دو صاع کھجوریں ایک انصاری آدمی کی طرف بھیجی تھیں تو وہ ان دو صاع کے بدلے ایک صاع عجوہ کھجوریں دے گیا۔ یہ وہی ہیں، آپ تناول فرمایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام کھجوریں پھینک دیں اور فرمایا: یہ واپس بھیج دو، مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ کھجور کھجور کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو، جَو کے بدلے، سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے ہاتھوں ہاتھ ہو اور برابر، برابر ہو (تو جائز ہے) جو زیادہ ہو گا وہ سود ہے پھر اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کے متعلق جن کو ماپا جاتا ہے اور جن کا وزن کیا جاتا ہے بھی یہی فرمایا۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کو جنت کی دعائیں دیں اور کہنے لگے: آج آپ نے مجھے وہ بات یاد دلا دی ہے جس کو میں بھلا چکا تھا، میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں، اس کے بعد آپ بڑی شدت کے ساتھ بیع صرف سے منع کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2313]
حدیث نمبر: 2314
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني مخْرَمة بن بُكير، عن أبيه، عن عمران بن أبي أنس، قال: سمعتُ أبا عياشٍ يقول: سألتُ سعدَ بن أبي وقّاص عن اشتراء السُّلْت بالتمر، فقال سعد: أبينهما فَضْلٌ؟ قالوا: نعم، قال: لا يصلحُ، وقال سعد: سُئل رسولُ الله ﷺ عن اشتراء الرُّطب بالتمر، فقال رسول الله ﷺ:"أبينَهما فَضْلٌ؟" قالوا: نَعَم، الرُّطب ينقُصُ، فقال رسول الله ﷺ:"فلا يَصلُح" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوعیاش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کھجوروں کے بدلے جو خریدنے کے متعلق مسئلہ پوچھا: تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ان کے درمیان کمی زیادتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: (یہ بیع) جائز نہیں ہے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خشک کھجوروں کے عوض، تر کھجوریں خریدنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان کے درمیان فرق ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! تر کھجوریں کم ہو جاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ جائز نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2314]
حدیث نمبر: 2315
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ سُئل عن … (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا … (اس مقام پر اصل کتاب میں بیاض ہے)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2315]
حدیث نمبر: 2316
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْري، حدثنا يعقوب بن إسحاق الحَضْرمي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر، قال: كنت أبيعُ الإبل بالبقيع، فأبيعُ بالدنانير وآخذُ الدراهمَ، وأبيع بالدراهم وآخذ الدنانيرَ، فوقع في نفسي مِن ذلك، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو في بيت حفصة - أو قال: حين خرج من بيت حفصة - فقلتُ: يا رسول الله، رُوَيدَك أسألْك، إني أبيعُ الإبلَ بالبَقيع، فأبيعُ بالدنانير وآخذ الدراهمَ، وأبيعُ بالدراهم وآخذ الدنانير، فقال:"لا بأسَ أن تأخذَهُما بسعر يومِهما ما لم تتفرّقا وبينكما شيءٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2285 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2285 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نقیع (ایک مقام کا نام ہے جو کہ وادی عقیق میں ہے) میں اونٹوں کی خرید و فروخت کیا کرتا تھا، لیکن (میرا طریقہ کار یہ ہے کہ) دیناروں کے عوض بیچتا ہوں اور درہم لے لیتا ہوں اور (کبھی) درہموں کے عوض بیچتا ہوں اور دینار لیتا ہوں، اس بارے میں میرے دل میں ایک کھٹکا سا پیدا ہوا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے یا (شاید) یہ فرمایا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکل رہے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ سے پوچھنے میں بہت دیر کر دی ہے، میں نقیع میں اونٹ بیچتا ہوں اور (کبھی) دیناروں کے عوض بیچتا ہوں اور درہم وصول کرتا ہوں اور (کبھی) درہموں کے عوض بیچتا ہوں اور دینار وصول کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی دن کے نرخ کے مطابق اگر ان کو لے لو تو کوئی حرج نہیں ہے جب تک کہ فروخت کنندہ اور خریدار جدا نہ ہوں اور ان کے درمیان کوئی معاملہ رہ نہ جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2316]