🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. النهي عن عسب الفحل
نر جانور کے ملاپ کی اجرت لینے سے ممانعت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2316
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْري، حدثنا يعقوب بن إسحاق الحَضْرمي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر، قال: كنت أبيعُ الإبل بالبقيع، فأبيعُ بالدنانير وآخذُ الدراهمَ، وأبيع بالدراهم وآخذ الدنانيرَ، فوقع في نفسي مِن ذلك، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو في بيت حفصة - أو قال: حين خرج من بيت حفصة - فقلتُ: يا رسول الله، رُوَيدَك أسألْك، إني أبيعُ الإبلَ بالبَقيع، فأبيعُ بالدنانير وآخذ الدراهمَ، وأبيعُ بالدراهم وآخذ الدنانير، فقال:"لا بأسَ أن تأخذَهُما بسعر يومِهما ما لم تتفرّقا وبينكما شيءٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2285 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نقیع (ایک مقام کا نام ہے جو کہ وادی عقیق میں ہے) میں اونٹوں کی خرید و فروخت کیا کرتا تھا، لیکن (میرا طریقہ کار یہ ہے کہ) دیناروں کے عوض بیچتا ہوں اور درہم لے لیتا ہوں اور (کبھی) درہموں کے عوض بیچتا ہوں اور دینار لیتا ہوں، اس بارے میں میرے دل میں ایک کھٹکا سا پیدا ہوا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے یا (شاید) یہ فرمایا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکل رہے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ سے پوچھنے میں بہت دیر کر دی ہے، میں نقیع میں اونٹ بیچتا ہوں اور (کبھی) دیناروں کے عوض بیچتا ہوں اور درہم وصول کرتا ہوں اور (کبھی) درہموں کے عوض بیچتا ہوں اور دینار وصول کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی دن کے نرخ کے مطابق اگر ان کو لے لو تو کوئی حرج نہیں ہے جب تک کہ فروخت کنندہ اور خریدار جدا نہ ہوں اور ان کے درمیان کوئی معاملہ رہ نہ جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2316]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2316 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل سماك بن حرب، وقد صحَّح روايتَه هذه جماعة غير المصنف، منهم ابن الجارود (655)، وابن حبان (4920)، وابن عبد البر في "التمهيد" 6/ 292، وابن تيمية في "مجموع الفتاوى" 29/ 510، وابن قيم الجوزية في "حاشيته على سنن أبي داود" 5/ 153، واحتجَّ به ابن المنذر في "الأوسط" (8051)، والخطابي في "معالم السنن" 3/ 74.
⚖️ درجۂ حدیث: سماک بن حرب کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔ مصنف کے علاوہ ابن الجارود (655)، ابن حبان (4920)، ابن عبدالبر (التمہید 6/ 292)، ابن تیمیہ (الفتاویٰ 29/ 510) اور ابن قیم (حاشیہ ابوداؤد 5/ 153) نے بھی اس کی تصحیح کی ہے۔
وما أُعِلّ به هذا الحديثُ من تفرد سماك بن حرب برفعه، فلا يُعد عِلَّةً، لأنَّ الذين رووه ممن ذكرهم شعبة فيما نقله عنه البيهقي في "المعرفة" (11322) إنما رَوَوا فعلَه بمقتضى ما ورد في رواية سماكٍ هذه، وفي رواية سماكٍ قصةٌ في مجيء ابن عمر إلى بيت أخته حفصة وسؤاله النبيَّ ﷺ لدى خروجه من بيتها، فيبعد أن يكون سماك وهم برفعه الحديث وبذكر القصة فيه، وهذا مما يُستبعد مثلُه، فالأَولى أن يُقال: إنَّ ابن عمر عمل بمقتضى ما رواه هو نفسه عن النبي ﷺ مرشدًا إياه إلى ما التزم ابنُ عمر القيام به امتثالًا لأمره ﷺ، والله أعلم بالصواب.
🔍 فنی نکتہ: اس حدیث پر سماک بن حرب کے تفرد کی وجہ سے جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ درست نہیں، کیونکہ اس میں ایک مکمل واقعہ (قصہ) ذکر ہے کہ ابن عمر اپنی بہن حفصہ کے گھر آئے اور نبی ﷺ سے سوال کیا۔ سماک جیسے راوی سے اتنے مفصل واقعے میں وہم کا امکان بعید ہے۔ 📌 اہم نکتہ: درست بات یہ ہے کہ ابن عمر نے نبی ﷺ کے اسی حکم پر عمل کیا جو انہوں نے خود روایت کیا۔
وكنا قد ضعفنا إسناد الحديث في "مسند أحمد"، و"سنن أبي داود" فيستدرك من هنا.
📝 نوٹ / توضیح: ہم نے پہلے "مسند احمد" اور "سنن ابوداؤد" کی تحقیق میں اسے ضعیف کہا تھا، مگر اب یہاں اس سے رجوع کرتے ہوئے اس کی تصحیح (استدراک) کی جاتی ہے۔
وأخرجه أحمد 9/ (5559) و 10/ (6239)، وأبو داود (3354)، وابن ماجه (2262 م)، والترمذي (1242)، والنسائي (6136)، وابن حبان (4920) من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2262) من طريق عمر بن عُبيد الطنافسي، والنسائي (6131) من طريق أبي الأحوص، كلاهما عن سماك، به. إلّا أنَّ عمر الطنافسي قال: حدثنا عطاء بن السائب أو سماك، ولا أعلمه إلّا سماك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے عمر بن عبید الطنافسانی اور نسائی نے ابوالاحوص کے طریق سے، دونوں نے سماک سے روایت کیا ہے۔
وممَّن كان يفتي بمقتضى هذا الحديث عمر بن الخطاب، فيما رواه عنه ابن المنذر في "الأوسط" ¤ ¤ (8048) بسند حسن. ثم ذكره ابن المنذر عن جماهير أهل العلم من التابعين فمن بعدهم غير ابن عباس وأبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف وابن شُبرمة.
📌 اہم نکتہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس حدیث کے مطابق فتویٰ دیتے تھے (الأوسط 8048، سند حسن)۔ ابن المنذر کے مطابق تابعین اور مابعد کے جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے، سوائے ابن عباس اور چند دیگر کے۔
وقال ابن القيم في "حاشية السنن" 5/ 153: فجوَّز النبي ﷺ ذلك بشرطين:
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے (درہم کے بدلے دینار کے تبادلے کو) دو شرطوں کے ساتھ جائز قرار دیا ہے:
أحدهما: أن يأخذ بسعر يوم الصرف، لئلا يربح فيها، وليستقر ضمانه.
1️⃣ پہلی شرط: یہ کہ اسی دن کے ریٹ (سعر یوم الصرف) پر معاملہ ہو تاکہ (غیر ضروری) نفع نہ کمایا جائے اور ذمہ داری متعین رہے۔
والثاني: أن لا يتفرقا إلّا عن تقابض، لأنه شرطٌ في صحة الصرف، لئلا يدخله النسيئة.
2️⃣ دوسری شرط: یہ کہ جدا ہونے سے پہلے لین دین (تقابض) مکمل ہو جائے، کیونکہ یہ بیعِ صرف کی صحت کی شرط ہے تاکہ اس میں سود (ادھار) داخل نہ ہو۔