سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب فِي الإِشْعَارِ
باب: اشعار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1752
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَةٍ فَأَشْعَرَهَا مِنْ صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ عَنْهَا الدَّمَ وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحلیفہ میں ظہر پڑھی پھر آپ نے ہدی کا اونٹ منگایا اور اس کے کوہان کے داہنی جانب اشعار ۱؎ کیا، پھر اس سے خون صاف کیا اور اس کی گردن میں دو جوتیاں پہنا دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی جب آپ اس پر بیٹھ گئے اور وہ مقام بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1752]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ذوالحلیفہ مقام پر پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کی اونٹنی طلب کی اور اس کے کوہان کی دائیں جانب چیر لگایا اور اس کا خون وہیں چپڑ دیا اور اسی کے گلے میں دو جوتوں کا ہار بھی ڈال دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر بیداء میدان کے قریب پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجج 32 (1243)، سنن الترمذی/الحج 67 (906)، سنن النسائی/الحج 64 (2776)، 67 (2784)، 70 (2793)، سنن ابن ماجہ/المناسک 96 (3097)، (تحفة الأشراف: 6459)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 23 (1549)، مسند احمد (1/216، 254، 280، 339، 344، 347، 373)، سنن الدارمی/المناسک 68 (1953) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہدی کے اونٹ کی کوہان پر داہنے جانب چیر کر خون نکالنے اور اسے اس کے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے، یہ بھی ہدی کے جانوروں کی علامت اور پہچان ہے۔
۲؎: اشعار مسنون ہے، اس کا انکار صرف امام ابوحنیفہ نے کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ” یہ مثلہ ہے جو درست نہیں “، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ مثلہ نہیں ہے، مثلہ ناک کان وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں، اشعار فصد یا حجامت کی طرح ہے، جو صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
۲؎: اشعار مسنون ہے، اس کا انکار صرف امام ابوحنیفہ نے کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ” یہ مثلہ ہے جو درست نہیں “، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ مثلہ نہیں ہے، مثلہ ناک کان وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں، اشعار فصد یا حجامت کی طرح ہے، جو صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1243)
حدیث نمبر: 1753
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَى أَبِي الْوَلِيدِ،قَالَ:" ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ بِيَدِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هَمَّامٌ، قَالَ:" سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا بِأُصْبُعِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِنْ سُنَنِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ الَّذِي تَفَرَّدُوا بِهِ.
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث ابوالولید کے روایت کے مفہوم کی طرح مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: «ثم سلت الدم بيده» ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے خون صاف کیا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہمام کی روایت میں «سلت الدم عنها بإصبعه» کے الفاظ ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف اہل بصرہ کی سنن میں سے ہے جو اس میں منفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1753]
شعبہ نے یہ حدیث ابو الولید کے ہم معنی روایت کی، کہا کہ ”انگلی سے خون چپڑا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ روایت اہل بصرہ کے تفردات میں سے ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6459) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1752)
انظر الحديث السابق (1752)
حدیث نمبر: 1754
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، أَنَّهُمَا قَالَا:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَلَمَّا كَانَ بِذِي الُحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان دونوں سے روایت ہے، وہ دونوں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال نکلے جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو ہدی ۱؎ کو قلادہ پہنایا اور اس کا اشعار کیا اور احرام باندھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1754]
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان (بن حکم) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کو قلادہ پہنایا، اس کا اشعار کیا اور احرام باندھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 106(1694)، والمغازي 36 (4157، 4158)، سنن النسائی/الحج 62 (2773)، (تحفة الأشراف: 11250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 323، 327، 328، 331) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ” ہدی “ اس جانور کو کہتے ہیں جو حج تمتع یا حج قران میں مکہ میں ذبح کیا جاتا ہے، نیز اس جانور کو بھی ” ہدی “ کہتے ہیں جس کو غیر حاجی حج کے موقع سے مکہ میں ذبح کرنے کے لئے بھیجتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه النسائي (2772)
أخرجه النسائي (2772)
حدیث نمبر: 1755
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهْدَى غَنَمًا مُقَلَّدَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی بکریاں قلادہ پہنا کر ہدی میں بھیجیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1755]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریاں بطور ہدی (حرم کی طرف) بھجوائیں اور ان کی گردنوں میں قلاوے ڈالے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 106 (1701)، م /الحج 64 (1321)، سنن الترمذی/الحج 70 (909)، سنن النسائی/الحج 69 (2789)، سنن ابن ماجہ/المناسک 95 (3096)، (تحفة الأشراف: 15944، 15995)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/41، 42، 208) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1701) صحيح مسلم (1321)