🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

76. مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مَاتَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ.
جو اللہ کی راہ میں قتل ہو یا مر جائے وہ جنت میں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2553
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، أخبرنا مُسدَّد. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي؛ قالا: حدثنا إسماعيل -وهو ابن عُلَيَّة- عن أيوب وهشام وابن عَوْن، عن محمد، عن (1) أبي العَجْفاء السُّلَمي، قال: سمعتُ عمر بن الخطّاب يقول: وأخرى تقُولُونها لمن قُتِل في مَغازِيكُم أو مات: قُتِل فلانٌ وهو شهيد، أو مات فلان شهيدًا، ولعله أن يكونَ أَوْقَرَ عَجُزَ دابتِه -أو قال: راحلته- ذهبًا أو وَرِقًا يلتمس التجارة، فلا تقولوا ذاكُم، ولكن قولوا كما قال النبيُّ ﷺ:"مَن قُتِل في سبيلِ الله أو ماتَ، فهو في الجنّة" (2) .
هذا حديث كبيرٌ صحيح، ولم يُخرجاه ولا واحدٌ منهما، لقول سلمة بن علقمة عن ابن سِيرين أنه قال: نُبِّئْتُ عن أبي العَجْفاء، وأنا ذاكرٌ بمشيئة الله في كتاب النكاح ما يُستدل به على صحته (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2521 - صحيح
سیدنا ابوالعجفاء سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کچھ لوگ ایسے ہیں جو جہاد میں قتل ہونے والے یا مرنے والے کے متعلق کہتے ہیں: فلاں شخص قتل کر دیا گیا ہے اور وہ شہید ہے یا فلاں شخص شہادت کی موت مرا، یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس نے تجارت کی طلب میں سونے یا چاندی کے حصول کی غرض سے جنگ لڑی ہو، اس لیے تم ایسے مت کہا کرو بلکہ اس طرح کہا کرو، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کر دیا گیا یا مر گیا وہ جنتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ سلمہ بن علقمہ نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس کی روایت کرتے ہوئے انبئت عن ابی العجفاء کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور میں کتاب النکاح میں اس کی صحت کی دلیل ذکر کروں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2553]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں