🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. مُرَافَعَةُ النَّاسِ إِلَى عُمَرَ أَنَّ السَّرِيَّةَ هَلَكَتْ فِي الْغَزْوِ
لوگوں کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مقدمہ لے جانا کہ لشکر ہلاک ہو گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2552
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا هاشم (3) ابن يونس العَصَّار (4) بمصر، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مُسافِر، عن ابن شهاب، أنَّ مالك بن أوس بن الحَدَثان كان يحدّث: أنَّ عمر بن الخطاب خرج في مجلس وهو في مسجد رسول الله ﷺ، وهم يَذكُرون سَرِيّةً من السرايا هلكت في سبيل الله، فيقول قائل منهم: هم عُمّالُ الله، هَلَكوا في سبيلِه، وقد وَجَبَ لهم أجرُهم عليه، ويقول قائل: الله أعلمُ بهم، لهم ما احتَسَبُوا، فلما رأوا عمرَ مُقبِلًا متوكئًا على عصاهُ سكتُوا، فأقبل عمرُ حتى سلَّم، فقال: ما كنتُم تتحدّثون؟ قالوا: كنا نذكُر هذه السريّةَ التي هلكتْ في سبيل الله، يقول قائلٌ منا: هم عُمّالُ الله هَلَكوا في سبيله، وقد وَجَبَ لهم أجرُهم عليه، ويقول قائل: الله أعلمُ بهم، لهم ما احتَسَبُوا، فقال عمر: الله أعلمُ، إنَّ من الناس ناسًا يقاتِلون رياءً وسُمعةً، وإنَّ من الناس ناسًا يُقاتلون، وإن دَهَمَهم القتالُ فلا يستطيعون إلَّا إياهُ، وإنَّ من الناس ناسًا يُقاتِلون ابتغاءَ وجهِ الله، فأولئك الشهداءُ، وكلُّ امرئ منهم يُبعَثُ على الذي يموتُ عليه، والله ما تدري نفسٌ ماذا مفعولٌ بها، ليس هذا الرجلَ الذي قد بُيِّن لنا أنه قد غُفِر له ما تقدَّم من ذنبِه وما تأخّرَ، ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري ولم يُخرجاه. إنما اتفقا (2) من هذا الباب على حديث أبي موسى:"مَن قاتَلَ لتكونَ كلمةُ الله هي العُلْيا، فهو في سبيلِ الله"
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2520 - على شرط البخاري
سیدنا مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجدِ نبوی میں ایک مجلس میں تشریف لائے جہاں لوگ ایک ایسے فوجی دستے (سریہ) کا تذکرہ کر رہے تھے جو اللہ کی راہ میں کام آ گیا تھا، ان میں سے کوئی کہہ رہا تھا: وہ اللہ کے کارندے تھے جو اس کی راہ میں جان دے گئے اور ان کا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہو چکا ہے، جبکہ کوئی دوسرا کہہ رہا تھا: اللہ ہی ان کے حال کو بہتر جانتا ہے، انہیں وہی ملے گا جس کی انہوں نے نیت کی تھی، جب انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی لاٹھی کے سہارے تشریف لاتے دیکھا تو وہ خاموش ہو گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قریب آ کر سلام کیا اور دریافت فرمایا: تم لوگ کیا باتیں کر رہے تھے؟ انہوں نے عرض کیا: ہم اس سریہ کا تذکرہ کر رہے تھے جو اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا، ہم میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کے سپاہی تھے جو اس کی راہ میں فوت ہوئے اور ان کا اجر اللہ کے ہاں یقینی ہے، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ اللہ ان کی نیتوں کو بہتر جانتا ہے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یقیناً کچھ لوگ دکھاوے اور شہرت کے لیے لڑتے ہیں، اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب لڑائی ان کے سر پر آ پڑے تو ان کے پاس لڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا، اور کچھ لوگ وہ ہیں جو محض اللہ کی رضا کی خاطر لڑتے ہیں، پس اصل میں وہی شہید ہیں، اور ہر شخص اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر اسے موت آئی ہوگی، اللہ کی قسم! کسی نفس کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، سوائے اس ہستی (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے جن کے بارے میں ہمیں واضح کر دیا گیا ہے کہ ان کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے اس باب میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے: جو اس لیے لڑا کہ اللہ کا کلمہ ہی بلند رہے، وہی اللہ کی راہ میں (لڑنے والا) ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2552]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم إلَّا عبد الله بن صالح - وهو كاتب الليث - فهو حسن الحديث في المتابعات والشواهد، لكنه لم يُتابَع على وصل هذا الأثر، بل خالفه معمر بن راشد، فرواه عن ابن شهاب الزُّهْري: أنَّ عمر بن الخطاب خرج … فذكره مرسلًا، فهذا ...» [ترقيم الرساله 2552] [ترقيم الشركة 2535] [ترقيم العلميه 2520]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں