المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. شَأْنُ نُزُولِ سُورَةِ الْأَنْفَالِ
سورۂ انفال کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2627
حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم الحِيري، حدثنا أحمد بن النضر بن عبد الوهاب، حدثنا وَهْب بن بقيّة الواسطي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ يوم بدر:"من فعل كذا وكذا، فله من النَّفَل كذا وكذا" قال: فقَدِمَ الفِتيانُ ولَزِمَ المَشْيَخةُ الراياتِ فلم يَبْرَحُوها، فلما فتح الله عليهم قالت المَشْيَخةُ: كنا رِدْءًا لكم، لو انهزمتُم فِئْتُم إلينا، فلا تذهَبُوا بالمَغْنم ونَبقى، فأبى الفتيانُ، وقالوا: جعلَه رسولُ الله ﷺ لنا، فأنزل الله تعالى: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ … كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ﴾ [الأنفال: 1 - 5] يقول: فكان ذلك خيرًا لهم، فكذلك أيضًا فأَطيعوني فإني أعلَمُ بعاقبةِ هذا منكم (1) . حديث صحيح فقد احتج البخاريُّ بعِكْرمة، واحتج مسلم بداود بن أبي هند، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر ربيع الآخر سنة ثمان وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2594 - على شرط البخاري
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2594 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے موقع پر یہ تفصیل بیان کر دی تھی کہ کس طرح کا کارنامہ انجام دینے پر کتنا مالِ غنیمت ملے گا (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: دو نوجوان آگے بڑھے اور کچھ عمر رسیدہ لوگ علم بلند کیے ہوئے تھے۔ فتح ہونے تک یہی سلسلہ رہا (جب جنگ ختم ہو گئی) تو عمر رسیدہ لوگ بولے: تمہارے مددگار تو ہم تھے، اگر تم جنگ سے بھاگتے تو لوٹ کر ہمارے پاس آتے، اس لیے ایسا مت کرو کہ سارا مالِ غنیمت تم لے لو اور ہم محروم رہ جائیں لیکن نوجوانوں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے: یہ مال تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے مقرر کیا ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ……… کَمَآ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ م بَیْتِکَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِھُوْنَ) (الانفال: 1-5) ” اے محبوب تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں، تم فرماؤ غنیمتوں کا مالک اللہ و رسول ہے تو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس میں میل (صلح صفائی) رکھو اور اللہ اور رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو، ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کو یاد کیا جائے تو ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں تو ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں، وہ جو نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں، یہی سچے مسلمان ہیں، ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور روزی، جس طرح اے محبوب! تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا اور بے شک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا “۔ “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے لیے اسی طرح بہتر تھا، چنانچہ میری اطاعت کرو کیونکہ اس چیز کا انجام، تم سے زیادہ بہتر میں جانتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ عکرمہ کی روایت اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے داؤد بن ابی ہند کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2627]
حدیث نمبر: 2628
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو بكر وعثمان ابنا أبي شَيْبة، حدثنا أبو بكر بن عياش، عن عاصم، عن مصعب بن سعد، عن أبيه، قال: جئتُ إلى النبي ﷺ يوم بدر بسَيفٍ، فقلت: يا رسول الله، قد شُفِيَ صدري اليومَ من العدوّ، فَهَبْ لي هذا السيفَ، فقال:"إنَّ هذا السيفَ ليس لي ولا لكَ" فذهبتُ وأنا أقولُ: يُعطاهُ اليومَ مَن لم يُبْلِ بَلائي، فبَيْنا [أنا] (1) إذ جاءني الرسولُ، فقال: أجِبْ، فظننتُ أنه قد نَزَل فيَّ شيءٌ من كلامي، فجئتُ، فقال النبي ﷺ:"إنك سألتَني هذا السيفَ، وليس هو لي ولا لك، وإنَّ الله قد جعلَه لي، فهو لك" ثم قرأ: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ إلى آخر الآية (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2595 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2595 - صحيح
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ آج دشمن پر ہمارا سینہ ٹھنڈا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تلوار مجھے عطا فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار نہ تیری ہے نہ میری، میں وہاں سے یہ کہتے ہوئے چلا آیا ” آج یہ تلوار اس شخص کو دی جائے گی جو میری طرح آزمائش میں مبتلا نہیں ہو گا “ اسی دوران میرے پاس آپ کا ایک قاصد آیا اور کہنے لگا: آپ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوں، میں یہ سمجھا کہ میری اس سخت کلامی کی وجہ سے شاید میرے متعلق کوئی آیت نازل ہو گئی ہے، میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے مجھ سے یہ تلوار مانگی تھی اس وقت یہ تلوار نہ میری تھی نہ تیری تھی، اب اللہ تعالیٰ نے یہ تلوار مجھے دے دی ہے، تو میں تجھے دیتا ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درج ذیل آیت کی تلاوت کی: (یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِلٰی اٰخِرِ الْآیَۃِ) (الانفال: 1)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2628]