المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. شأن نزول سورة الأنفال
سورۂ انفال کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2628
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو بكر وعثمان ابنا أبي شَيْبة، حدثنا أبو بكر بن عياش، عن عاصم، عن مصعب بن سعد، عن أبيه، قال: جئتُ إلى النبي ﷺ يوم بدر بسَيفٍ، فقلت: يا رسول الله، قد شُفِيَ صدري اليومَ من العدوّ، فَهَبْ لي هذا السيفَ، فقال:"إنَّ هذا السيفَ ليس لي ولا لكَ" فذهبتُ وأنا أقولُ: يُعطاهُ اليومَ مَن لم يُبْلِ بَلائي، فبَيْنا [أنا] (1) إذ جاءني الرسولُ، فقال: أجِبْ، فظننتُ أنه قد نَزَل فيَّ شيءٌ من كلامي، فجئتُ، فقال النبي ﷺ:"إنك سألتَني هذا السيفَ، وليس هو لي ولا لك، وإنَّ الله قد جعلَه لي، فهو لك" ثم قرأ: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ إلى آخر الآية (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2595 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2595 - صحيح
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ آج دشمن پر ہمارا سینہ ٹھنڈا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تلوار مجھے عطا فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار نہ تیری ہے نہ میری، میں وہاں سے یہ کہتے ہوئے چلا آیا ” آج یہ تلوار اس شخص کو دی جائے گی جو میری طرح آزمائش میں مبتلا نہیں ہو گا “ اسی دوران میرے پاس آپ کا ایک قاصد آیا اور کہنے لگا: آپ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوں، میں یہ سمجھا کہ میری اس سخت کلامی کی وجہ سے شاید میرے متعلق کوئی آیت نازل ہو گئی ہے، میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے مجھ سے یہ تلوار مانگی تھی اس وقت یہ تلوار نہ میری تھی نہ تیری تھی، اب اللہ تعالیٰ نے یہ تلوار مجھے دے دی ہے، تو میں تجھے دیتا ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درج ذیل آیت کی تلاوت کی: (یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِلٰی اٰخِرِ الْآیَۃِ) (الانفال: 1)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2628]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2628 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) من "السنن الكبرى" للبيهقي 6/ 291 حيث رواه عن المصنف.
📖 حوالہ / مصدر: یہ بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (6/ 291) سے ماخوذ ہے جہاں انہوں نے اسے مصنف (امام حاکم) سے روایت کیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم - وهو ابن أبي النَّجُود. وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند عاصم بن ابی النجود کی وجہ سے "حسن" ہے، تاہم ان کی متابعت (تائید) موجود ہے جس سے یہ صحیح کے درجے کو پہنچ جاتی ہے۔
وأخرجه أحمد (3/ 1538) عن أسود بن عامر، وأبو داود (2740)، والنسائي (11132) عن هنّاد بن السَّرِي، والترمذي (3079) عن أبي كريب محمد بن العلاء، ثلاثتهم عن أبي بكر بن عياش، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (3/ 1538) نے اسود بن عامر سے، ابو داود (2740) اور نسائی (11132) نے ہناد بن السری سے، اور ترمذی (3079) نے ابو کریب محمد بن العلاء سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں ابوبکر بن عیاش کے واسطے سے اسی سند سے روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (1567)، ومسلم (1748) و (2412) (43)، وابن حبان (5349) و (6992) من طريق سماك بن حرب، عن مصعب بن سعد، عن أبيه. لكن ليس فيه أنه ﷺ أعطاه السيف بعد ذلك.
🧾 تفصیلِ روایت: اسی کے ہم معنی روایت امام احمد (1567)، مسلم (1748، 2412/43) اور ابن حبان (5349، 6992) نے سماک بن حرب عن مصعب بن سعد عن ابیہ (سعد بن ابی وقاص) کے طریق سے روایت کی ہے، لیکن ان روایات میں یہ ذکر نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے اس کے بعد انہیں وہ تلوار عطا فرما دی تھی۔