المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. تَنْفِيلُ الثُّلُثِ بَعْدَ الْخُمُسِ
خمس نکالنے کے بعد تہائی نفل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2632
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا مصعب بن المِقدام، عن سفيان. وأخبرنا أبو العباس المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن يزيد بن يزيد بن جابر الشامي، عن مكحول، عن زياد بن جاريَةَ التميمي، عن حبيب بن مَسْلَمة الفِهْري، أنه قال: كان رسول الله ﷺ يُنفِّل الثلُثَ بعد الخُمُس (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2599 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2599 - صحيح
سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچوے حصے کے بعد تیسرا حصہ غنیمت تقسیم کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2632]
حدیث نمبر: 2633
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا هُشَيم، حدثنا الشَّيباني وأشعث بن سَوّار، عن محمد بن أبي المُجالِد، قال: بعثني أهلُ المسجد إلى ابن أبي أَوفى أسألُه ما صنعَ النبيُّ ﷺ في طعام خيبرَ، فأتيتُه فسألتُه عن ذلك، فقلت: هل خَمَّسه؟ قال: لا، كان أقلَّ من ذلك، وكان أحدُنا إذا أراد شيئًا أخذَ منه حاجتَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2600 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2600 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا محمد بن ابی المجالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اہل مسجد نے مجھے سیدنا عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے خیبر سے حاصل ہونے والے غلہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار معلوم کر کے آؤں، میں ان کے پاس آیا اور پوچھا: کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا تھا؟ انہوں نے جواباً کہا: نہیں، اس سے کم تھا، ہم میں سے جس کو جتنی ضرورت ہوتی اتنا لے لیتا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2633]
حدیث نمبر: 2634
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا أحمد بن حنبل ومُؤمَّل بن هشام، قالا: حدثنا إسماعيل، عن يونس، عن الحسن، عن أبي بَرْزَة الأسلمي، قال: كانت العربُ تقول: مَن أكل الخُبز سَمِنَ، فلما فتحنا خيبر أجهَضْناهم عن خُبزةٍ لهم، فقعدتُ عليها، فأكلتُ منها حتى شبعتُ، فجعلتُ أنظرُ في عِطْفَيَّ هل سَمِنتُ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2601 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2601 - صحيح
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اہلِ عرب کی یہ ایک کہاوت تھی کہ جو شخص گندم کی روٹی کھاتا ہے وہ موٹا ہو جاتا ہے، جب ہم نے خیبر فتح کیا تو ان کو ان کی گندم کی روٹیوں سے دور ہٹا دیا اور خود وہاں بیٹھ کر پیٹ بھر کر وہ روٹیاں کھائیں، جب ہم سیر ہو گئے تو اپنی بغلوں کو دیکھنے لگے کہ کیا واقعی ہم موٹے ہو گئے ہیں؟ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2634]
حدیث نمبر: 2635
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب ومحمد بن شاذان الجوهري، قالا: حدثنا زكريا بن عَدِي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن زيد بن أبي أُنيسة، حدثنا قيس بن مسلم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبيه، قال: شهدتُ فتحَ خيبرَ مع رسول الله ﷺ، فلما انهزم القومُ وَقَعْنا في رِحالِهم، فأخذ الناسُ ما وجَدُوا من جُزُرٍ - قال زيد: وهي المواشي - فلم يكن بأسرعَ مِن أن فارَتِ القُدُور، فلما رأى ذلك رسولُ الله ﷺ أمر بالقُدُور فأُكفئت، ثم قَسَم بيننا، فجعل لكلِّ عشرةٍ شاةً (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2602 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2602 - صحيح
سیدنا عبدالرحمان بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ میں فتح خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، جب وہاں کے لوگوں کو شکست ہو گئی تو ہم ان کے خیموں میں گئے تو لوگوں کے ہاتھ جو بھی قابل ذبح جانور لگا انہوں نے اس کو پکڑ لیا اور سب سے پہلے ہنڈیاں پکائی گئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب دیکھا تو ہنڈیا (الٹا دینے) کا حکم دیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق) ہنڈیاں گرا دی گئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جانور ہمارے درمیان تقسیم کیے، تو ہر شخص کے حصے میں دس بکریاں آئیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2635]
حدیث نمبر: 2636
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو عاصم الضحّاك بن مَخلَد، حدثنا شعبة، عن سِمَاك بن حَرب، عن ثعلبة بن الحَكَم قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"النُّهبة لا تَحِلُّ، فأَكْفِئوا القُدُورَ" (1) . وهكذا رواه عُندَرٌ وابنُ أبي عَدِي عن شعبة، فذكروا سماعَ ثعلبة من النبي ﷺ. وهو حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، لحديث سماك بن حرب، فإنه رواه مرةً عن ثعلبة بن الحكم عن ابن عباس عن النبي ﷺ:
سیدنا ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوٹی ہوئی چیز حلال نہیں ہے، اس لیے ہنڈیاں الٹا دو۔ ٭٭ اس حدیث کو غندر اور ابن ابی عدی نے بھی شعبہ سے روایت کیا ہے، اس میں انہوں نے ثعلبہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کا ذکر کیا ہے اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ لیکن شیخین نے اس کو سماک بن حرب کی حدیث کی وجہ سے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ انہوں نے ایک مرتبہ ثعلبہ بن حکم کے ذریعے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2636]