المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. تنفيل الثلث بعد الخمس
خمس نکالنے کے بعد تہائی نفل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2635
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب ومحمد بن شاذان الجوهري، قالا: حدثنا زكريا بن عَدِي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن زيد بن أبي أُنيسة، حدثنا قيس بن مسلم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبيه، قال: شهدتُ فتحَ خيبرَ مع رسول الله ﷺ، فلما انهزم القومُ وَقَعْنا في رِحالِهم، فأخذ الناسُ ما وجَدُوا من جُزُرٍ - قال زيد: وهي المواشي - فلم يكن بأسرعَ مِن أن فارَتِ القُدُور، فلما رأى ذلك رسولُ الله ﷺ أمر بالقُدُور فأُكفئت، ثم قَسَم بيننا، فجعل لكلِّ عشرةٍ شاةً (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2602 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2602 - صحيح
سیدنا عبدالرحمان بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ میں فتح خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، جب وہاں کے لوگوں کو شکست ہو گئی تو ہم ان کے خیموں میں گئے تو لوگوں کے ہاتھ جو بھی قابل ذبح جانور لگا انہوں نے اس کو پکڑ لیا اور سب سے پہلے ہنڈیاں پکائی گئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب دیکھا تو ہنڈیا (الٹا دینے) کا حکم دیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق) ہنڈیاں گرا دی گئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جانور ہمارے درمیان تقسیم کیے، تو ہر شخص کے حصے میں دس بکریاں آئیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2635]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2635 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، وقد اختُلف فيه على عُبيد الله بن عمرو الرَّقِّي في تعيين شيخ زيد بن أبي أنيسة، فوقع في روايته زكريا بن عدي أنه قيس بن مسلم - وهو الجَدَلي - وخالفه عبد الله بن جعفر الرقي، فذكر أنه الحكم بن عُتيبة، والقول فيه قول زكريا، فقد تابعه يزيد بن عبد الرحمن ¤ ¤ الدالاني عن زيد بن أبي أُنيسة، فقال: عن قيس بن مسلم، وكذلك رواه غيلان بن جامع عن قيس بن مسلم، فالحديث حديث قيس، كما جزم به الدارمي في "مسنده" بإثر (2513)، وابن أبي خيثمة في السفر الثالث من "تاريخه الكبير" بإثر (4587).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبید اللہ بن عمرو الرقی پر شیخ کے نام میں اختلاف ہوا؛ زکریا بن عدی نے "قیس بن مسلم" کہا جبکہ عبد اللہ بن جعفر الرقی نے "حکم بن عتیبہ" کہا۔ صحیح قول زکریا کا ہے کیونکہ یزید بن عبد الرحمن الدالانی اور غیلان بن جامع نے بھی ان کی تائید میں "قیس بن مسلم" ہی روایت کیا ہے۔ امام دارمی اور ابن ابی خیثمہ نے بھی اسی کو درست قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد (31/ 19058) عن زكريا بن عدي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (31/ 19058) میں زکریا بن عدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وخالفه عبد الله بن جعفر الرَّقِّي عند الدارمي (2512)، وابن أبي خيثمة في السفر الثالث من "تاريخه" (4586)، فرواه عن عبيد الله بن عمرو الرقي، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن الحكم بن عتيبة، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى. فذكر الحكم بدل قيس بن مسلم الجدلي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن جعفر الرقی نے دارمی (2512) اور ابن ابی خیثمہ (4586) کے ہاں زکریا کی مخالفت کی اور شیخ کا نام "حکم بن عتیبہ" ذکر کیا (بجائے قیس بن مسلم الجدلی کے)۔
لكن تابع زكريا بنَ عدي أبو خالد يزيد الدالاني فرواه عن زيد بن أبي أُنيسة عن قيس بن مسلم، أخرجه من هذه الطريق ابنُ أبي خيثمة في السفر الثالث من "تاريخه" (4587)، والطبراني في "الأوسط" (505).
🧩 متابعات و شواہد: زکریا بن عدی کی تائید ابو خالد یزید الدالانی نے کی ہے، انہوں نے بھی زید بن ابی انیسہ عن قیس بن مسلم ہی روایت کیا ہے۔ اسے ابن ابی خیثمہ (4587) اور طبرانی نے "الاوسط" (505) میں روایت کیا ہے۔
وكذلك رواه غيلان بن جامع عن قيس بن مسلم أبي يعلى في "مسنده الكبير" كما في "إتحاف الخيرة" للبوصيري (4502/ 2)، والطبراني في "الكبير" (6426)، والبيهقي في "السنن" 9/ 197.
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح غیلان بن جامع نے بھی قیس بن مسلم سے روایت کیا ہے جسے ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں، طبرانی نے "الکبیر" (6426) میں اور بیہقی نے "السنن" (9/ 197) میں نقل کیا ہے۔