المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
42. التَّشْدِيدُ فِي الْعَدْلِ بَيْنَ النِّسَاءِ
بیویوں کے درمیان عدل کرنے میں سخت تاکید
حدیث نمبر: 2794
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا جعفر بن أبي عثمان الطيالسي، حدثنا عفان ومحمد بن سِنان، قالا: حدثنا همّام، عن قَتَادة، عن النضْر بن أنس، عن بَشير بن نَهِيك، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، قال:"إذا كانت عند الرجُل امرأتانِ فلم يَعدِلْ بينَهما، جاء يومَ القيامة وشِقُّه ساقِطٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2759 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2759 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان عدل و برابری نہ کرے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو گرا ہوا (یعنی مفلوج) ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2794]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2794]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،همام: هو ابن يحيى العَوْذي.» [ترقيم الرساله 2794] [ترقيم الشركة 2775] [ترقيم العلميه 2759]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2795
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، أنها قالت له: يا ابن أُختي، كان رسولُ الله ﷺ لا يُفضِّل بعضَنا على بعض في مُكثِه عندنا، وكان قَلَّ يومٌ إلّا وهو يَطُوف علينا، فيَدنُو من كل امرأةٍ مِن غير مَسِيسٍ، حتى يَبلُغَ إلى من هو يومُها فيَبيتُ عندها، ولقد قالت سَودة بنت زَمْعة حين أسنَّت وفَرِقَت أن يُفارِقَها رسولُ الله ﷺ: يا رسول الله، يومي هو لعائشة، فقَبِل ذاك منها رسولُ الله ﷺ. قالت عائشة: في ذلك أَنزل اللهُ ﷿ فيها وفي أشباهِها: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا﴾ [النساء: 128] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2760 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2760 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عروہ سے کہا: اے میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس قیام کے معاملے میں ہم میں سے کسی کو ایک دوسرے پر ترجیح نہیں دیتے تھے، اور ایسا کوئی دن شاذ و نادر ہی گزرتا ہو گا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس تشریف نہ لاتے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بیوی کے قریب جاتے تھے (ملاقات فرماتے تھے) لیکن مباشرت صرف اسی سے فرماتے تھے جس کی باری کا دن ہوتا، یہاں تک کہ اس کے پاس پہنچتے جس کی باری ہوتی اور وہیں رات بسر فرماتے۔ اور جب سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہو گئیں اور انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں (بڑھاپے کی وجہ سے) الگ نہ کر دیں، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری باری کا دن عائشہ کے لیے ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات قبول فرما لی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اسی بارے میں اللہ عزوجل نے ان کے اور ان جیسی دیگر خواتین کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا﴾ [سورة النساء: 128] ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بے رخی یا بے توجہی کا خوف ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2795]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2795]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، وكذا الحسن بن علي بن زياد وقد توبع.» [ترقيم الرساله 2795] [ترقيم الشركة 2776] [ترقيم العلميه 2760]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2796
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن عبد الله بن يزيد الخَطْمي، عن عائشة، قالت: كان رسولُ الله ﷺ يَقسِم فيَعدِل، فيقول:"اللهم هذا قَسْمِي فيما أَملِكُ، فلا تَلُمْني فيما تَملِكُ ولا أَملِكُ" (2) . قال إسماعيلُ القاضي: يعني القلبَ. وهذا في العَدْل بين نسائه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2761 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2761 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ازواج کے درمیان حقوق کی) تقسیم فرماتے اور عدل و انصاف برقرار رکھتے، پھر دعا فرماتے: «اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ» ”اے اللہ! یہ میری وہ تقسیم ہے جو میرے بس میں ہے، پس تو مجھے اس معاملے میں ملامت نہ کرنا جو تیرے اختیار میں ہے اور میرے بس میں نہیں (یعنی دلی میلان)۔“ اسماعیل قاضی کہتے ہیں کہ اس سے مراد ”دل“ ہے، اور یہ بیویوں کے درمیان (محبت کے) عدل کے بارے میں ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2796]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2796]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،كما قال ابن كثير في "تفسيره" 2/ 382، إلّا أنه اختُلف في وصله وإرساله، ورجَّحَ الإرسالَ غير واحدٍ من الأئمة، والقولُ فيه كالقول في الحديث المتقدم برقم (2794)، وفي معناه حديث عائشة الذي قبله، ويشهد لمعناه أيضًا قوله تعالى: ﴿وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا ...» [ترقيم الرساله 2796] [ترقيم الشركة 2777] [ترقيم العلميه 2761]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2797
أخبرني أحمد بن سَهْل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبيب القاضي، حدثنا يحيى بن مَعين، حدثنا عبّاد بن عبّاد، عن عاصم، عن مُعاذة، عن عائشة، قالت: كان رسولُ الله ﷺ يَستأذِننا إذا كان في يوم المرأةِ مِنّا بعدَما نَزَلَ: ﴿تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ﴾ [الأحزاب: 51] ، قالت مُعاذة: فقلت لعائشة: ما كنتِ تَقولين لرسولِ الله ﷺ؟ قالت: كنت أقولُ: إن كان ذاك إليَّ، لم أُوثر أحدًا على نفسي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2762 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2762 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے کے بعد کہ: ﴿تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ﴾ [سورة الأحزاب: 51] ”آپ ان (بیویوں) میں سے جسے چاہیں الگ رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں“، پھر بھی (اپنے کمالِ اخلاق کی بنا پر) ہم میں سے کسی کے دن میں دوسری کے پاس جانے کے لیے ہم سے اجازت طلب فرماتے تھے۔ معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دیا کرتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: میں عرض کرتی تھی کہ اگر یہ فیصلہ میری مرضی پر منحصر ہے تو میں اپنی ذات پر کسی دوسری کو ترجیح نہیں دوں گی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2797]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2797]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عاصم: هو ابن سليمان الأحول، وعبّاد بن عبّاد: هو المهلَّبي.» [ترقيم الرساله 2797] [ترقيم الشركة 2778] [ترقيم العلميه 2762]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2798
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيّب، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا شَريك، عن حُصين، عن الشعبي، عن قيس بن سعد، قال: أتيتُ الحِيْرةَ فرأيتُهم يسجدون لِمَرزُبانٍ لهم، فقلتُ: رسولُ الله ﷺ أحقُّ أن يُسجَدَ له، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلتُ: إني أتيتُ الحِيْرةَ فرأيتُهم يسجدون لِمَرزُبان لهم، فأنت يا رسولَ الله أحقُّ أن يُسجَد لك، فقال:"أرأيتَ لو مَرَرْتَ بقبري، أكنت تَسجُد له؟" قال: قلت: لا، قال:"فلا تفعلوا، لو كنتُ آمِرًا أحدًا أن يَسجُد لأحدٍ، لأمرتُ النساءَ أن يَسجُدنَ لأزواجِهِنّ، لِما جَعَلَ اللهُ لهم عليهن من حقٍّ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2763 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2763 - صحيح
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں (عراق کے شہر) حیرہ گیا تو میں نے وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے ایک سردار (مرزبان) کو سجدہ کر رہے ہیں، میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں سجدہ کیا جائے، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں حیرہ گیا تھا اور میں نے دیکھا کہ وہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں، حالانکہ اے اللہ کے رسول! آپ زیادہ حقدار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اسے سجدہ کرو گے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس ایسا نہ کرو، اگر میں کسی کو یہ حکم دینے والا ہوتا کہ وہ کسی انسان کو سجدہ کرے تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں، اس عظیم حق کی وجہ سے جو اللہ نے ان (مردوں) کا ان (عورتوں) پر رکھا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2798]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2798]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل شريك - وهو ابن عبد الله النخعي القاضي - وقد روى هذا الحديث جماعةٌ عن عمرو بن عون غير الفضل بن محمد، فزادوا فيه بين ابن عون وبين شريك رجلًا، هو إسحاق بن يوسف الأزرق، وهو ثقة، كذلك وقع لهم مع أنَّ لعمرو بن عون رواية عن ...» [ترقيم الرساله 2798] [ترقيم الشركة 2779] [ترقيم العلميه 2763]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2799
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، حدثنا أبو قَزَعة سُوَيد بن حُجَير الباهِلي، عن حَكيم بن معاوية القُشَيري، عن أبيه، قال: قلتُ: يا رسول الله، ما حَقُّ زوجةِ أحدِنا عليه؟ قال:"أن يُطعِمَها إذا طَعِمَ، وَيَكْسوها إذا اكتَسَى، ولا يضربَ الوجهَ، ولا يُقبِّحَ، ولا يَهجُرَ إلّا في البيت (1) " (2) . صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2764 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2764 - صحيح
حکیم بن معاویہ قشیری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی کی بیوی کا اس پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ جب تم کھانا کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم لباس پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے پر مت مارو، اسے برا بھلا نہ کہو (یعنی بدصورت نہ کہو)، اور اس سے قطع تعلقی نہ کرو مگر صرف گھر کی حد تک (یعنی علیحدگی اختیار کرنی ہو تو گھر کے اندر ہی کرو)۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2799]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2799]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل حكيم بن معاوية، وأخرجه أبو داود (2142) عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2799] [ترقيم الشركة 2780] [ترقيم العلميه 2764]
الحكم على الحديث: إسناده حسن